اسلام آباد 22 جنوری ( سیاست ڈاٹ کام ) پاکستان کی سپریم کورٹ نے آج حکومت پاکستان سے کہا ہے کہ وہ ان تمام ممنوعہ تنظیموں کے ناموں کا اعلان کرے جن پر امتناع عائد کردیا گیا ہے تاکہ عوام ان تنظیموں سے عطیات دیتے وقت واقف ہوسکیں۔ واضح رہے کہ عدالت نے یہ احکام حکومت پاکستان کی جانب سے جماعت الدعوۃ اور حقانی نیٹ ورک سمیت کئی تنظیموں پر امتناع عائد کرنے کے چند گھنٹوں کے اندر جاری کئے ہیں۔ جماعت الدعوۃ کے سربراہ حافظ سعید ہیں جن پر ممبئی حملوں میں ملوث رہنے کا شبہ ہے ۔ جسٹس جواد خواجہ نے احکام جاری کرتے ہوئے کہا کہ چونکہ حکومت دہشت گردوں کے خلاف لڑائی میں مصروف ہے اس لئے یہ اہمیت کی بات ہے کہ ملک کے عوام بھی ملک میں موجود ممنوعہ گروپس سے واقف ہوں۔ انہوں نے کہا کہ عوام کو اس بات سے واقف ہونا چاہئے کہ جس گروپ یا تنظیم کو عطیات دئے جا رہے ہیں وہ ممنوعہ ہیں یا نہیں۔ عدالت نے حکومت کو ایک درخواست کی سماعت کے دوران یہ ہدایت دی جس میں کہا گیا تھا کہ حکومت کے اقدامات اور قوانین کی وجہ سے الجھن پیدا ہوتی ہے ۔ آج حکومت پاکستان نے جماعت الدعوۃ اور حقانی نیٹ ورک سمیت کئی تنظیومں پر امتناع عائد کردیا ہے اور ان کے بینک کھاتے منجمد کرنے کے علاوہ حافظ سعید پر سفری تحدیدات بھی عائد کردئے ہیں۔ عدالت کے حکمنامہ کے بعد اٹارنی جنرل نے کہا کہ وہ عدالت کو مطلع کرینگے کہ حکومت کب ممنوعہ گروپس کے تعلق سے سر عام اعلان کریگی ۔ جج نے حکومت سے کہا کہ وہ قوانین کی کتابوں کی کسی غلطی کے بغیر اشاعت کو بھی یقینی بنائے ۔