ممنور ایرپورٹ کے احیاء پر حکومت کا غور و خوص

جی ایم آر سے یادداشت مفاہمت ، مختص اراضی میں مزید وسعت دینے کا فیصلہ
حیدرآباد۔27جولائی (سیاست نیوز) حکومت تلنگانہ ممنور ائیرپورٹ کے احیاء کے سلسلہ میں سنجیدہ اقدامات میں مصرورف ہے لیکن جی ایم آر ائیر پورٹ انتظامیہ سے ریاستی حکومت نے جو معاہدہ کیا ہے وہ معاہدہ اس ائیرپورٹ کو دوبارہ کارکرد بنانے میں سب سے بڑی رکاوٹ تصور کیا جا رہا ہے ۔ حکومت تلنگانہ نے ائیر پورٹ اتھاریٹی آف انڈیا کونئے ائیر پورٹ کیلئے درکار اراضی حوالہ کرنے کی بھی تیاری کر لی ہے لیکن جی ایم آر سے کئے گئے معاہدہ کے مطابق حکومت جی ایم آر کے اطراف 150کیلو میٹر فضائی حدود میں کوئی نیا ڈومیسٹک ائیر پورٹ سال 2027تک شروع نہیں کرے گی اس معاہدہ کا مقصد جی ایم آر ائیر پورٹ سے روانہ ہونے والے مسافرین کی تعداد میں کمی نہ لانا اور فضائی مسافرین کی تقسیم کوروکنا ہے لیکن باوثوق ذرائع سے موصولہ اطلاعات کے مطابق ریاستی حکومت نے ممنور ائیرپورٹ کی کشادگی کا فیصلہ کرلیا ہے اور کہا جا رہے کہ 2000ایکڑ پر محیط اس ائیر پورٹ کی جگہ جہاں اب صرف 750 ایکڑ اراضی باقی رہ گئی ہے اس کے لئے مزید اراضی کی فراہمی کیلئے ضلع انتظامیہ کی جانب سے اراضی کی بھی نشاندہی کرلی گئی ہے۔ ریاستی وزیر بلدی نظم و نسق مسٹر کے ٹی راما راؤ مرکزی حکومت کی جانب سے اندرون ملک فضائی سفر کو فروغ دینے کیلئے شروع کردہ اسکیم ’’اڑان‘‘ کے تحت اس ائیرپورٹ کی از سرنو کشادگی کا منصوبہ تیار کیا ہے اور کہا جا رہاہے کہ اس منصوبہ کو قطعیت دینے کے لئے ریاستی وزیر نے اعلی عہدیداروں کو ہدایات بھی جاری کردی ہیں اور انہیں ائیر پورٹ اتھاریٹی آف انڈیا کے رہنمایانہ خطوط کے مطابق درکار 1200 ایکڑ اراضی کے حصول کیلئے بھی احکام جاری کردیئے گئے ہیں۔ ضلع ورنگل میں موجود اس ممنور ائیر پورٹ کو سلطنت آصفیہ کے دور میں کافی اہمیت حاصل تھی اور اس ائیر پورٹ کا استعمال کیا جا تا رہا ہے اور اب بھی یہ ائیر پورٹ کارکرد ہے لیکن تربیت کیلئے اڑائی جانے والی پروازوں کی آمد و رفت ہی اس ائیرپورٹ پر ہوا کرتی ہے۔ بتایا جاتاہے کہ 1987 میں ممنور ائیر پورٹ پر آخری کمرشیل پرواز اتاری گئی تھی اس کے بعد سے اب تک اس ائیر پورٹ کا استعمال این سی سی کیڈٹس کی تربیت کیلئے کیا جا رہاہے لیکن اب حکومت تلنگانہ اس ائیر پورٹ کو فوری طور پر شروع کرنے کے سلسلہ میں اراضیات کے حصول کے علاوہ اندرون ملک پروازوں کی نشاندہی میں مصروف ہے تاکہ اس ائیر پورٹ کے احیاء کے ساتھ ہی حکومت تلنگانہ کی جانب سے ریاست کے مختلف مقامات پر 5 ائیر پورٹ کے قیام کا عمل شروع کیاجاسکے۔