دوعلحدہ کمیٹیوں کے دعوے مسترد ، اسپیشل آفیسر وقف بورڈ جناب شیخ محمد اقبال کی پریس کانفرنس
حیدرآباد ۔24 ۔ مارچ (سیاست نیوز) وقف بورڈ نے ممتاز یار الدولہ وقف سے متعلق اہم فیصلہ کرتے ہوئے 1934 ء کے وقف نامے کے مطابق تین رکنی کمیٹی کی تشکیل کا فیصلہ کیا ہے جس میں ممتاز یار الدولہ کے وارث خسرو علی بیگ کے علاوہ چیف اگزیکیٹیو آفیسر وقف بورڈ اور ایک ریٹائرڈ جوڈیشیل آفیسر ہوں گے۔ بورڈ نے دو علحدہ کمیٹیوں کے دعوؤں کو مسترد کردیا کیونکہ امور مذہبی سلطنت آصفیہ نے 1948 ء میں داخل کردہ دوسرے وقف نامہ کو نامنظور کردیا۔ اسپیشل آفیسر وقف بورڈ شیخ محمد اقبال آئی پی ایس نے آج پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ممتاز یار الدولہ کے تحت خیریت آباد میں واقع تمام جائیدادیں اب تین رکنی کمیٹی کے تحت ہوں گی اور موجودہ کمیٹی کے دونوں دعویدار وقف بورڈ کیلئے ناقابل قبول ہوں گے ۔ واضح رہے کہ ممتاز یار الدولہ وقف کمیٹی کے مسئلہ پر دو متضاد کمیٹیاں اصلی ہونے کا دعویٰ کرتے ہوئے عدالت سے رجوع ہوچکی ہیں۔ 4 مارچ 2014 ء کو اس مسئلہ کو ہائی کورٹ کے ڈیویژنل بنچ کے فیصلہ کے بعد شیخ محمد اقبال نے تمام متعلقہ فائلوں کا جائزہ لیا ۔ انہوں نے بتایا کہ 1934 ء میں نواب ممتاز یار الدولہ نے جائیدادوں کو وقف کرتے ہوئے جو منشائے وقف مقرر کیا تھا ، اس میں تبلیغ اسلام اور تعلیم قرآن کے علاوہ ہر ہفتہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کیلئے نذرانہ عقیدت پیش کرنا اور ممتاز یار الدولہ کے افراد خاندان کے مقابر اور مقبرہ کا تحفظ شامل تھا۔ تاہم 1943 ء میں ممتاز یار الدولہ کے انتقال سے عین قبل امور مذہبی میں 25 اگست 1943 ء کو دوسرا وقف نامہ پیش کیا گیا جس میں منشائے وقف میں شامل امور کو تبدیل کردیا گیا۔ شیخ محمد اقبال نے کہا کہ دوسرے وقف نامہ کو امور مذہبی نے یہ کہتے ہوئے مسترد کردیا کہ واقف کو پہلے وقف نامہ میں شامل منشائے وقف کو تبدیل کرنے کا کوئی اختیار نہیں۔ شریعت کے مطابق کوئی جائیداد جب ایک مرتبہ وقف کردی جاتی ہے، اسے تبدیل نہیں کیا جاسکتا۔ اس معاملہ میں واقف ممتاز یار الدولہ نے پہلے وقف نامہ میں اس طرح کی کوئی گنجائش نہیں کہ وہ آئندہ اسے تبدیل کرسکتے ہیں۔
شیخ محمد اقبال نے کہا کہ مجلس امنا میں بعض افراد نے خود کو ارکان ظاہر کرتے ہوئے قرارداد منظور کی اور بتایا کہ یہ جائیدادیں مدرسہ آصفیہ کے تحت وقف تصور کی جائے۔ انہوں نے بتایا کہ پہلے وقف نامہ کے بعد جو بھی دستاویزات داخل کئے گئے ان میں ممتاز یار الدولہ کی دستخط میں کافی فرق ہے۔ لہذا اندیشہ ہے کہ جعلی دستخطیں کی گئی ہیں۔ وقف بورڈ نے 1934 ء کے پہلے وقف نامے سے لیکر آج تک کے تمام معاملات بشمول وقف جائیدادوں کی آمدنی، فنڈس میں دھاندلیاں اور جعلی دستخطوں کی پولیس کے ذریعہ تحقیقات کا فیصلہ کیا ہے۔ قانونی رائے حاصل کرنے کے بعد بورڈ نے تین رکنی کمیٹی کی تشکیل کا فیصلہ کیا اور اس سلسلہ میں ممتاز یار الدولہ کے وارث خسرو علی بیگ کو مکتوب روانہ کیا گیا ہے۔ پہلے وقف نامہ میں صرف تین رکنی کمیٹی کی موجودگی کی گنجائش ہے۔ اور وقف بورڈ دوسرے وقف نامہ کو قبول نہیں کرے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ دستاویزات کے مطابق ممتاز یار الدولہ وقف کیلئے کوئی بھی کمیٹی قابل قبول نہیں ہوگی اور موجودہ دو کمیٹیوں کی دعویداری ناقابل قبول ہے۔ شیخ محمد اقبال نے وضاحت کی کہ امور مذہبی نے جب دوسرے وقف نامہ کو مسترد کیا تو اس فیصلہ کو عدالت میں آج تک چیلنج نہیں کیا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ ادارہ کی جانب سے 2008 تا 2012 ء وقف فنڈ ادا نہیں کیا گیا جو کہ تقریباً 4 لاکھ 27 ہزار 311 روپئے ہے۔ انہوں نے یہ بھی وضاحت کی کہ ہائی کورٹ نے اپنے حالیہ دو فیصلوں میں کسی بھی کمیٹی کو درست قرار نہیں دیا ہے۔ ممتاز یار الدولہ وقف کے تحت لکڑی کے پل پر ایک ایکر 29 گنٹے اور 53 گز اراضی ہے جس پر والینٹر کلب ، مسرت منزل ، مکان زنانہ، مکانات شاگرد پیشہ اور موٹر خانہ شامل ہیں۔ شیخ محمد اقبال نے کہا کہ ضرورت پڑنے پر اس معاملہ کو اینٹی کرپشن بیورو سے رجوع کیا جائے گا۔