ممبئی۔ 19 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) ممبئی کے تمام میونسپل اسکولوں اور مضافاتی علاقوں میں طلبہ کو ’’بھگوت گیتا‘‘ پڑھائی جائے گی۔ طلبہ کی توجہ بھگوت گیتا کی جانب مبذول کرانے اس کتاب سے ان کی وابستگی کو اَٹوٹ بنانے کی مساعی جاری ہے۔ بلدیہ کے ایک عہدیدار نے کہا کہ طلبہ کا یہ اخلاقی فرض ہوگا کہ وہ روحانیت کے بارے میں اپنی معلومات میں اضافہ کریں۔ میونسپل کارپوریشن گریٹر ممبئی کے ڈپٹی میونسپل کمشنر رام داس بھاؤ صاحب نے کہا کہ ہم طلبہ کے لئے ’’بھگوت گیتا‘‘ کے علم کو اُجاگر کریں گے۔ انہیں فیصلہ سازی میں اپنی تیز تر صلاحیتوں کا استعمال کرنے اور آزادانہ طور پر فیصلے کرنے کی عملی صلاحیتوں سے آراستہ کریں گے۔ وہ یہاں گیتا چمپین لیگ کی تقسیم انعامات تقریب سے خطاب کررہے تھے۔ اس کانفرنس کو انٹرنیشنل سوسائٹی برائے کرشنا خود احتسابی گروپ کی جانب سے منعقدہ مقابلوں کے سلسلے میں انعقاد عمل میں لایا گیا ہے۔ رام داس نے کہا کہ میونسپل کارپوریشن گریٹر ممبئی کے 1200 اسکولوں میں 4,78,000 طلبہ کی اکثریت پڑھتی ہے جہاں کارپوریشن کی جانب سے سالانہ 3,500 کروڑ روپئے خرچ کئے جاتے ہیں۔ چار علاقائی زبانوں میں طلباء کو مفت تعلیم دی جاتی ہے۔ ہمارے بچے ہی ہمارا مستقبل ہیں۔ ہمیں ان کی صلاحیتوں کو اُجاگر کرتے ہوئے ان کے تیز ذہنوں کو مزید مضبوط اور قابل بنانا ہے، تاہم ٹیلی ویژن، فلمیں اور انٹرنیٹ نے طلبہ کی صلاحیتوں کو مفقود کردیا ہے۔ فلموں بھی بتایا جانے والا تشدد طلبہ کو تشدد پسند بناتا ہے۔ اگر انہیں بھگوت گیتا کی تعلیم دی جائے تو ان کی بہتر سوچ کو فروغ حاصل ہوگا اور وہ معاشرہ میںباوقار، عزت دار شہری بن رہنے کو ترجیح دیں گے۔ ان کی منفی سوچ کو بھگوت گیتا کی تعلیمات سے تبدیل کیا جاسکتا ہے۔