اسلام آباد ۔ 4 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) 2008ء کے ممبئی حملوں کے مقدمات کی سماعت کرنے والی پاکستان کی ایک انسداد دہشت گردی عدالت نے لشکرطیبہ کے تربیتی مرکز کے وجود کے بارے میں آج ایک مجسٹریٹ کا بیان قلمبند کیا لیکن دیگر تین سرکاری عہدیدار گواہ کے طور پر اس عدالت میں حاضری سے ناکام رہے۔ اس عدالت نے 25 فبروری کو مقرر پیشی میں عدم حاضری پر چار عہدیداروں کے خلاف سمن جاری کئے تھے۔ اس مقدمے میں ممبئی حملوں کے سرغنہ ذکی الرحمن لکھوی کے بشمول 7 مشتبہ ملزمین ملوث ہیں۔ عدالت کے ایک عہدیدار نے مقدمہ کی سماعت کے بعد کہا کہ ’’صرف ایک گواہ جو ٹھٹھ کے مقامی مجسٹریٹ ہیں، اسلام آباد میں واقع انسداد دہشت گردی عدالت میں حاضر ہوئے اور صوبہ سندھ کے ضلع ٹھٹھ کے تحت میرپور سکرو میں لشکرطیبہ کے تربیتی مرکز کی موجودگی کے بارے میں اپنا بیان قلمبند کروایا لیکن دیگر تین سرکاری گواہ جن کے نام گذشتہ چہارشنبہ کو سمن جاری کئے گئے تھے حاضر نہیں ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ ایک خانگی گواہ ممتاز کے بیان میں پائی جانے والی الجھن اور تضاد کو دور کرنے کیلئے مجسٹریٹ نے اپنا بیان قلمبند کروایا ہے۔ ممتاز نے قبل ازیں عدالت میں دعویٰ کیا تھا کہ میرپور سکرو میں لشکرطیبہ کا تربیتی مرکز موجود ہے۔ تاہم وکلائے صفائی نے ممتاز کے دعویٰ کو چیلنج کیا تھا۔