ممبئی جیسے ایک اور حملہ پر صبرکا پیمانہ چھلک جائے گا

واشنگٹن 10 جون (سیاست ڈاٹ کام )ہندوستان نے امریکہ پر واضح کردیا کہ پاکستان کے دہشت گردوں کی جانب سے اگر 26 نومبر 2008ء جیسے ممبئی حملہ کی طرح ایک اور حملہ ہندوستان کی سرزمین پر کیا جائے تو ملک کا صبر کا پیمانہ چھلک جائے گا ۔ سابق وزیر اعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ نے 2009 میں سابق وزیر خارجہ امریکہ ہلاری کلنٹن کو یہ انتباہ دیا تھا۔ وزیر اعظم اور صدر کانگریس سونیا گاندھی سے 2009 میں اپنی ملاقات کا تذکرہ کرتے ہوئے ہلاری کلنٹن نے اپنی یادداشت ’’سخت فیصلے‘‘ میں یہ انکشاف کیا ہے۔

انہوں نے اور وزیر اعظم منموہن سنگھ نے واضح کردیا تھا کہ پاکستان کے دہشت گردوں کے باہم ربط کے ذریعہ اگر 2008 میں ممبئی پر کئے ہوئے حملہ کی مانند ایک اور حملہ ہندوستان پر کیا جائے تو پاکستان کے ساتھ ہندوستان کا صبر و تحمل مزید برقرار نہیں رہ سکتا ۔ پاکستان کے دہشت گرد گروپ لشکر طیبہ کے دہشت گردوں نے باہم اشتراک کے ذریعہ نومبر 2008 میں ممبئی کے کئی مقاموں پر حملے کئے تھے جن میں 166 افراد بشمول پانچ امریکی شہری ہلاک ہوگئے تھے۔ ہلاری کلنٹن نے تحریر کیا ہے کہ وزیر اعظم منموہن سنگھ نے کہا کہ یہ 11 ستمبر کے امریکہ میں حملہ کا ہندوستان کی سرزمین پر اعادہ تھا ۔ ہلاری کلنٹن 2009 میں ہندوستان کا دورہ کر کے وہاں قیام بھی کرچکی ہیں۔ہلاری کلنٹن نے اپنی یادداشتوں پر مشتمل کتاب میں جو آج بازار میں پیش کردی گئی تحریر کیا کہ ہندوستانی عوام کے ساتھ اظہار یکجہتی کے طور پر انہوں نے تاج محل پیالس ہوٹل ممبئی میں قیام کیا جہاں 26 نومبر 2008 کو حملہ کیا گیا تھا۔

نہوں نے کہا کہ اس مقام پر قیام اور مہلوکین کی یادگار پر خراج عقیدت پیش کر کے وہ یہ پیغام دینا چاہتی تھی کہ ممبئی کے اس حملہ سے حوصلہ پست نہیںہوئے ہیں اور یہ اب بھی ہندوستان کا تجارتی مرکز برقرار ہے ۔ 600 صفحات پر مشتمل اس کتاب میں ہلاری کلنٹن نے ہندوستان کو اوباما نظم و نسق کی ایشیائے کوچک حکمت عملی میں شامل ایک اہم ملک قرار دیا ہے۔انہوں نے کہا کہ اس کلیدی حکمت عملی کا ایک اور پہلو ہندوستان کو ایشیائے کوچک کے سیاسی منظر نامہ میں اجاگر کرنا بھی ہے۔یہ دنیا کی ایک اور بڑی جمہوریت ہے جہاں کے سیاسی اور معاشی کھلے پن کی وجہ سے مزید ممالک کو پیشرفت کرنے کا حوصلہ ملتا ہے ۔