ملک کے تاریخی مدرسہ عالیہ اور محبوبیہ گرلز کالج سے حکام کی مجرمانہ لاپرواہی

شہر کے تاریخی اسکولوں کو جان بوجھ کر تباہ کرنے کا سلسلہ جاری ، طلبائے قدیم کا حرکت میں آنا ضروری
حیدرآباد ۔ 2 ۔ فروری : ( محمد ریاض احمد ) : حیدرآباد دکن کی تاریخ میں مدرسہ عالیہ اور محبوبیہ گرلز اسکول کے نام سنہری حروف میں لکھے جانے کے قابل ہیں ۔ ان اسکولوں نے نہ صرف حیدرآباد بلکہ ہندوستان کو بلند پایا مقررین ، غیر معمولی صلاحیتوں کے حامل تنظیمیں ، باتوں باتوں میں مریضوں کے مرض پر بآسانی قابو پانے والے ڈاکٹر ، ملک کی حفاظت کے لیے سینہ سپر رہنے والے اعلیٰ فوجی عہدہ دار ، قوم کو سائنسی انکشافات و ایجادات سے واقف کرانے والے سائنسداں ، کھیل کے میدانوں میں اپنے وطن کی لاج رکھنے والے کھلاڑی ، صحافت کے لیے باعث افتخار سمجھے جانے والے صحافی اپنے قلم کے ذریعہ انقلاب برپا کرنے والے ادیب و شاعر اور بلالحاظ مذہب وملت سب کے ساتھ انصاف کرنے والے حکمراں اور انصاف و قانون کی بالادستی کو یقینی بنانے والے ماہرین قانون عطا کئے ہیں لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ آصف جاہی حکمرانوں کے دور میں قائم کردہ ان دونوں تاریخی تعلیمی اداروں کو تباہ و برباد کردیا گیا ہے ۔ تاریخی آثار کے لحاظ سے کافی اہمیت کے حامل ہونے کے باوجود مدرسہ عالیہ اور محبوبیہ گرلز ہائی اسکول ایک طرح سے کھنڈرات میں تبدیل ہوچکے ہیں جہاں طلباء وطالبات کی تعداد گھٹ کر نہ ہونے کے برابر ہوگئی ہے ۔ دونوں اسکولس بنیادی سہولتوں سے محروم ہیں ۔ بیت الخلاء کی سہولتیں ندارد ہیں ۔ پینے کے پانی کا کوئی معقول انتظام نہیں ۔ دونوں تاریخی اسکولوں میں سرکاری دفاتر قائم کرتے ہوئے ان کی عظمت رفتہ کو تہس نہس کرنے میں کوئی دقیقہ باقی نہیں رکھا گیا ۔ 1872 میں بادشاہ وقت ان کے وزراء ، امرا و ارکان شاہی خاندان کے بچوں کے لیے قائم کردہ مدرسہ عالیہ 1872 تا 1948 تک پوری آن و شان کے ساتھ چلتا رہا لیکن پولیس ایکشن کے بعد ایسا لگتا ہے کہ جان بوجھ کر اسے تعصب کا شکار بنایا گیا اور سب سے پہلے اس کی شناخت ختم کرنے کے لیے اس کا نام مدرسہ عالیہ سے بدل کر عالیہ اسکول کردیاگیا ۔ مدرسہ عالیہ کبھی 20 ایکڑ اراضی پر محیط ہوا کرتا تھا لیکن آج یہ سکڑ کر صرف 2.8 ایکڑ تک محدود ہوگیا ہے ۔ اس اسکول کا دورہ کرنے پر پتہ چلا کہ وہاں غریب طلباء کے لیے پینے کا پانی تک نہیں ہے اور رفع حاجت کے لیے موزوں بیت الخلاء کا فقدان ہے ۔ سال 2000 میں اس اسکول میں طلبہ کی تعداد 500 ہوا کرتی تھی اور اب یہ تعداد گھٹ کر 108 ہوگئی ہے ۔ اسی طرح عالیہ جونیر کالج میں سال 2000 میں 1400 طلبہ تھے ۔ اب ان کی تعداد صرف 300 تک محدود ہوگئی ہے ۔ سب سے حیرت ناک بات یہ ہے کہ عالیہ جونیر کالج کی بلڈنگ میں ڈی ای او حیدرآباد مسٹر سومی ریڈی اور ریجنل ڈائرکٹر ایجوکیشنل مسٹر بی سدھاکر کے دفاتر ہیں اور ان عہدیداروں کی ناک کے نیچے ہی مدرسہ عالیہ کی شان اس کے وقار اور شناخت کو بڑی بے دردی سے مٹایا جارہا ہے جو ایک طرح سے شہر کے تعلیمی اداروں کے ساتھ ایک ظالمانہ رویہ ہے ۔ بتایا جاتا ہے کہ مدرسہ عالیہ دراصل نظام ہشتم میر محبوب علی خاں المعروف محبوب علی پاشاہ کے لیے قائم کیا گیا تھا اور اسے سالار جنگ اول نے پہلے نظام کالج کے احاطہ میں قائم کیا تھا ۔ مدرسہ عالیہ کے طلبائے قدیم میں نظام ہشتم نواب میر محبوب علی خاں بہادر ، نواب میر عثمان علی خاں بہادر ، مہاراجہ کشن پرشاد ، شہزادہ مکرم جاہ بہادر ، شہزادہ مفخم جاہ بہادر ، قائد ملت بہادر یار جنگؒ ، سالار جنگ ، مہدی نواز جنگ ، علی یاور جنگ ، ایڈیٹر سیاست کے پردادا نواب انتخاب جنگ ، صولت جنگ ، دادا نواب محمود علی خاں اور والد محترم نواب عابد علی خاں کے علاوہ خود جناب زاہد علی خاں ، ممتاز کرکٹرس ، غلام احمد ، عباس علی بیگ ، آصف اقبال ( پاکستانی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان ) ، لیفٹننٹ جنرل ایم اے ذکی ، ایرمارشل ادریس ایچ لطیف ، جسٹس سردار علی خاں ، ایس ایم ہادی ، اے بی البرا ، ایرمارشل حسین ، عابد حسین ، علی محمد خسرو سابق وائس چانسلر علی گڑھ مسلم یونیورسٹی ، لیفٹننٹ کرنل اے بی تارپورے ، پدماجا نائیڈو ، مرزا بشیر بیگ ، شاہد علی خاں ، مہدی بھائی شامل ہیں ۔ چندرا بابو نائیڈو کے دور چیف منسٹری میں ایک ایسا مرحلہ بھی آیا تھا جب انہوں نے افمی کے ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ مدرسہ عالیہ اور محبوبیہ گرلز اسکول جناب زاہد علی خاں کے حوالے کرنے کے خواہاں ہیں تاکہ ان تاریخی اسکولوں کا تحفظ ہوسکے ۔ دوسری طرف جہاں تک محبوبیہ گرلز اسکول کا سوال ہے فروری 1907 میں جب یہ اسکول قائم کیا گیا اسے نیو زنانہ اسکول کا نام دیا گیا ۔ پہلے دن صرف چار طالبات اسکول آئیں اور کچھ دن بعد ان کی تعداد 10 تک پہنچ گئی ۔ 1919 میں 100 طالبات نے اسکول میں داخلہ لیا دیکھتے ہی دیکھتے یہ اسکول اپنی عمارت معیار تعلیم اور قابل ترین اساتذہ کے باعث ہندوستان کے اہم ترین اسکولوں میں شمار ہونے لگا لیکن آج اس کی حالت قابل رحم ہے ۔ عالیہ اسکول آل سینٹس اور نظام کالج طلبائے قدیم کے اہم عہدہ دار انجینئر محمد ایوب مجاہد کا کہنا ہے کہ مدرسہ عالیہ اور محبوبیہ گرلز اسکول کو جان بوجھ کر نشانہ بنایا گیا ۔۔