ملک کی گیارہ ریاستوں سے خصوصی موقف کی فراہمی پر مطالبات

اے پی میں ترقی پر چندرابابو کی ستائش، مرکزی وزیر وینکیا نائیڈو کا بیان
حیدرآباد 24 مئی (سیاست نیوز) مرکزی وزیر شہری ترقیات مسٹر ایم وینکیا نائیڈو نے کہاکہ وہ صرف آندھراپردیش ریاست کیلئے ہی وزیر نہیں ہیں بلکہ وہ ملک کی تمام ریاستوں کیلئے وزیر ہیں اور بحیثیت مرکزی وزیر مجھے تمام ریاستیں مساوی ہیں۔ آج یہاں اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے مسٹر وینکیا نائیڈو نے انکشاف کیاکہ تلگو ریاستوں (آندھراپردیش و تلنگانہ) کے عوام نے انھیں نہ چاہنے کی وجہ سے ہی وہ کرناٹک سے راجیہ سبھا کی رکنیت حاصل کی۔ اُنھوں نے ہر ایک سے جنھوں نے آندھراپردیش کیلئے خصوصی موقف کے تعلق سے ان سے ہی دریافت کررہے ہیں بلکہ ان سے ہی مطالبہ کررہے ہیں صرف ان سے ہی مطالبہ کرنا یہ کوئی مناسب بات نہیں ہے کیونکہ سابق یو پی اے حکومت کی جانب سے کی گئیں بعض غلطیوں کے باعث موجودہ ان کی (مودی کی زیرقیادت) حکومت کے پہلے ایک سال کے دوران آندھراپردیش ریاست کو خصوصی موقف حاصل نہ ہوسکا۔ اُنھوں نے مزید کہاکہ آندھراپردیش کیلئے خصوصی موقف حاصل کرنے کیلئے کوئی گنجائش فراہم نہیں ہے بلکہ صرف اور صرف ریاست آندھراپردیش کو خصوصی عہدہ دینے کیلئے مطالبہ کی ہی گنجائش پائی جاتی ہے۔ مرکزی وزیر شہری ترقیات نے کہاکہ ملک بھر میں 11 ریاستیں انھیں خصوصی موقف فراہم کرنے کا مطالبہ کررہی ہیں لہذا ریاست آندھراپردیش کے خسارہ بجٹ کی پابجائی کیلئے قومی سطح پر انھوں نے بھرپور کوشش کی ہے۔ اُنھوں نے چیف منسٹر آندھراپردیش مسٹر این چندرابابو نائیڈو کی ریاست آندھراپردیش کی ترقی کیلئے کی جانے والی کوششوں کی زبردست ستائش کی اور نئی ریاست آندھراپردیش کی راجدھانی کی تعمیر کیلئے چیف منسٹر مسٹر این چندرابابو نائیڈو کی جانب سے بڑے پیمانے پر اراضیات اکٹھا کرنے (اراضیات کے حصول کیلئے) ’’لینڈ پولنگ‘‘ کے اقدامات قابل ستائش ہیں۔ اور اس توقع کا اظہار کیاکہ ریاست آندھراپردیش و تلنگانہ میں تلگودیشم پارٹی اور بی جے پی کی مفاہمت اور دوستی جاری رہے گی۔ مسٹر وینکیا نائیڈو نے مزید کہاکہ ریاست آندھراپردیش کیلئے خصوصی موقف کے حصول پر انھیں ابھی بھی بھرپور یقین ہے۔ ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے مسٹر وینکیا نائیڈو نے دریافت کیاکہ آیا صدر وائی ایس آر کانگریس پارٹی و قائد اپوزیشن آندھراپردیش قانون ساز اسمبلی مسٹر وائی ایس جگن موہن ریڈی کی بی جے پی قائدین کے ساتھ بات چیت کرنے اور ملاقات کرنے میں غلط بات کیا ہے۔