ملک کا خزانہ خالی ہوگیا ، کئی اہم شعبے معاشی ابتری کا شکار

مالی سال 2019-20 میں ترقیاتی کام اور منصوبوں پر عمل آوری مشکل ، ہندوستانی فضائیہ حصول قرض پر مجبور
حیدرآباد۔20(سیاست نیوز) ملک کا خزانہ خالی ہوچکا ہے!ملک کے کئی اہم شعبہ جات کی معاشی حالت ابتر ہوچکی ہے!معاشی اعتبار سے ملک کی حالت عدم استحکام کا شکار ہے!بی ایس این ایل کے ملازمین کو جاریہ ماہ کی تنخواہیں 16مارچ کو جاری کی گئیں جبکہ ملک کے کئی شعبوں میں کی حالت انتہائی ابتر ہے جس کے متعلق حکومت کو محکمہ جاتی عہدیداروں کی جانب سے واقف کروادیا گیا ہے اس کے باوجود حکومت کی جانب سے یہ تاثر دیا جا رہاہے کہ ملک کی معاشی حالت مستحکم ہے جبکہ ہندستانی فضائیہ کی مالی حالت کے سلسلہ میں جاری کردہ ایک رپورٹ کے مطابق مالی سال 2019-20 میں ترقیاتی کام اور نئے منصوبوں پر عمل آوری کے موقف میں نہیں ہے اور کہا جا رہاہے کہ دیگر ترقیاتی کام جو جاری ہیں ان کاموں کی تکمیل کیلئے بھی بجٹ موجود نہیں ہے۔ ہندوستانی فضائیہ نے بھی حکومت کو موجود معاشی موقف کے سلسلہ میں واقف کرواتے ہوئے کہا ہے کہ نئے ترقیاتی منصوبوں کو عملی جامہ اس وقت تک نہیں پہنایا جاتا تاوقتیکہ مرکزی حکومت کی جانب سے فضائیہ کو بجٹ کی تخصیص و حوالگی عمل میں نہیں لائی جاتی۔ ہندوستانی فضائیہ کے علاوہ ایچ اے ایل ہندوستان ایویشن لمیٹیڈ نے بھی جاریہ سال تنخواہوں کی اجرائی کیلئے 1000 کروڑ کا قرض حاصل کیا ہے جبکہ ایچ اے ایل کے عہدیدارو ںکا کہناہے کہ گذشتہ 14 برسوں کے دوران ایچ اے ایل کی یہ صورتحال پہلی مرتبہ دیکھی جا رہی ہے اور اس صورتحال سے نکلنے کیلئے ایچ اے ایل کو حکومت کی معاشی مدد کی ضرورت ہے لیکن حکومت کی جانب سے ایچ اے ایل کو بچانے کیلئے کوئی اقدامات نہیں کئے جا رہے ہیں

جس کے سبب ایچ اے ایل اپنے ملازمین کی تنخواہوں کی اجرائی کے لئے قرض حاصل کرنے پر مجبور ہو چکا ہے۔ حکومت ہند کی جانب سے قومی سطح کے سرکاری اداروں کی معاشی ابتری کو پوشیدہ رکھنے کے لئے کئے جانے والے اقدامات کے متعلق ماہرین معاشیات کا کہناہے کہ اگر حکومت کی جانب سے اس مسئلہ کو پوشیدہ رکھتے ہوئے ان اداروں کو قرض فراہم کرنے کے اقدامات کئے جاتے ہیں تو قومی سطح کے یہ ادارہ دیوالیہ کا شکار ہوجائیں گے اور خانگی اداروں کی جانب سے ان اداروں پر تسلط حاصل کرلیا جائے گا۔ ائیر انڈیا کے ملازمین کی تنخواہیں بھی ایک مسئلہ کے طور پر سامنے آئی ہیں اور اس مسئلہ کو حل کرنے کیلئے بھی ائیر انڈیا کی جانب سے قرض کا سہارا لیا گیا ہے جس کے سبب ائیر انڈیا بھی مقروض اداروں کی فہرست میں شامل ہوچکا ہے اور کہا جار ہاہے کہ ملک کی معیشت کو مستحکم بنانے کے نام پر حکومت کی جانب سے اختیار کردہ پالیسی قومی اداروں کونقصان پہنچانے سے زیادہ ان اداروں کو خانگیانے کی کوشش ثابت ہو رہی ہے۔ مرکز میں برسراقتدار حکومت کی جانب سے قومی اداروں کو وافر بجٹ کی عدم اجرائی کے سبب ان ادارو ںکی جو حالت ہونے لگی ہے اسے تبدیل کرنے کیلئے یہ ضروری ہے کہ ملک میں نظام کی تبدیلی عمل میں لائی جا ئے ۔ حکومت ہند کی جانب سے بی ایس این ایل‘ ایچ اے ایل ‘ ائیر انڈیا کے علاوہ دیگر اداروں کو ان کے حال پر چھوڑ دئیے جانے کے سبب جو صورتحال پیدا ہوئی ہے اس سے نمٹنے کے لئے ادارہ کی سطح پر کوشش کی جا رہی ہے لیکن ان اداروں کو قرض حاصل کرتے ہوئے اپنی بقاء کو یقینی بنانا پڑ رہاہے۔