نئی دہلی۔ 11 فروری (سیاست ڈاٹ کام) قومی سلامتی کے ایک سرکردہ عہدیدار نے دہشت گرد گروپس آئی ایس آئی ایس (داعش) کی جانب سے ہندوستانی نوجوانوں کو انتہا پسند بنائے جانے کے خطرہ کو مسترد کردیا اور کہا کہ ایسے اکا دکا واقعات پیش آئے بھی ہیں جن کی سکیورٹی اداروں کی طرف سے تحقیقات کی جارہی ہیں۔ نیشنل ٹیکنیکل ریسرچ آرگنائزیشن (این ٹی آر او) میں آفیسر آن اسپیشل ڈیوٹی اور سرکردہ جاسوس ادارہ ریسرچ اینڈ انالائسیس وِنگ (را) کے ریٹائرڈ سربراہ آلوک جوشی نے کہا کہ ہندوستان میں داعش نظریات کا بڑے پیمانے پر پھیلاؤ نہیں ہے لیکن اس انتہا پسند تنظیم (داعش) کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کی اندھی جستجو کے سبب اکا دکا واقعات وقوع پذیر ہوئے ہیں۔ مسٹر آلوک جوشی نے کہا کہ مَیں پورے وثوق کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ (ہندوستان میں) داعش کا کوئی اثرورسوخ نہیں ہے۔ اگر کوئی کہتے ہیں کہ (ہندوستان میں) اس گروپ کا اثرورسوخ ہے تو میں اس سے اتفاق نہیں کروں گا۔ میں اب را میں نہیں ہوں لیکن یقینا جب تک میں وہاں تھا ، (اس دہشت گرد گروپ) کی طرف عوام کا کوئی عمومی رجحان نہیں دیکھا۔ اس گروپ کے نظریات کا ہرگز کوئی اثرو رسوخ نہیں ہے۔