ملک میں امن و امان کی صورت حال بدتر: سرفراز احمد صدیقی

نئی دہلی۔9 اکتوبر(سیاست ڈاٹ کام) دہلی کانگریس کے سکریٹری اور سپریم کورٹ کے وکیل سرفراز احمد صدیقی نے ملک میں بگڑتے ہوئے امن و قانون کی صورت حال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ گجرات میں یوپی ، بہار اور مدھیہ پردیش کے مزدوروں کی خوف کی وجہ سے نقل مکانی اس کا بین ثبوت ہے ۔انہوں نے کہا کہ ملک کے ہر صوبے میں امن و قانون کی صورت حال بہت خراب ہے ، خواتین کے ساتھ آبروریزی کے واقعات میں جس تیزی سے اضافہ ہورہا ہے اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ملک میں مجرموں میں قانون کا کوئی خوف نہیں رہ گیا ہے اور غیر سماجی عناصر کے حوصلے اتنے بڑھ گئے ہیں اب لڑکیوں کے ہوسٹلوں پر بھی کھلم کھلا اور گروہ کی شکل میں حملے کرنے لگے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پورے ملک میں ہر طرف جنگل راج ہے اور خاص طور پر ان ریاستوں میں جہاں بی جے پی کی حکومت ہے وہاں غیر سماجی عناصر اورپولیس کے کردار میں کوئی فرق نہیں ہے ۔ غنڈے پولیس والوں کے ساتھ مل کر عوام اور مخصوص طبقہ کے افراد کو زدوکوب کیا جارہا ہے ۔انہوں نے کہا کہ اگر بھیڑ کے ذریعہ لوگوں کے قتل پر روک لگائی گئی ہوتی تو گجرات میں بھیڑ کو بہار ، اترپردیش اور مدھیہ پردیش کے مزدوروں کو زدوکوب کرنے کی ہمت نہیں ہوتی۔ انہوں نے کہاکہ وہاں بے روزگاری اس قدر بڑھ گئی ہے کہ نوجوان پریشان حال ہیں۔ محرومی کی حالت میں وہ لوگ مزدوروں کو نشانہ بنارہے ہیں۔ اگر اس واقعہ سے شروع میں نمٹ لیا گیا ہوتا تو یہ نوبت پیش نہیں آتی۔ گجرات کا یہ واقعہ گجرات ماڈل کی بھی پول کھول رہا ہے کہ وہاں کتنی ترقی ہوئی ہے ۔صدیقی نے کہا کہ ملک میں بدامنی دور کرنے میں موجودہ بی جے پی حکومت کی کوئی دلچسپی نہیں ہے ۔انہوں نے الزام لگایا کہ بہت سی جگہ بی جے پی کے اراکین میں بدامنی پیدا کرنے میں ملوث ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جہاں بے روزگاری ہوتی ہے وہاں بدامنی پیدا ہوجاتی ہے ۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ملک میں روزگار کی صورت حال کیا ہے ۔انہوں نے دعوی کیا کہ جب سیاست میں جرائم کی آمیزش ہوجاتی ہے تو حالات ایسے ہی ہوتے ہیں جیسا کہ اس وقت پورے ملک کی ہے ۔