ملایشیا میں دو کمسنوں کی اجتماعی عصمت ریزی کا چار افراد پر الزام

کوالالمپور ۔ 13 جون (سیاست ڈاٹ کام) ملایشیا کی عدالتوں نے چار افراد بشمول ایک باپ اور بیٹا پر دو کمسن لڑکیوں کی اجتماعی عصمت ریزی کا الزام عائد کیا ہے۔ پولیس کے بموجب اس مقدمہ سے مسلم غالب آبادی والے ملک میں برہمی کی لہر دوڑ گئی ہے۔ ان چار افراد میں دو نابالغ بھی شامل ہیں۔ ان پر الزام عائد کیا گیا ہیکہ انہوں نے ’’دیگر افراد کی موجودگی میں‘‘ عصمت ریزی کا ارتکاب کیا ہے۔ یہ واقعہ شمالی ریاست کیلن ٹان کے ایک دیہات میں پیش آیا۔ ریاستی ڈائرکٹر برائے تحقیقات جرائم لائی یوم ہنگ نے کہا کہ لڑکیوں کی عمریں 15 اور 17 سال کی تھیں۔ انہیں 20 مئی کو ترغیب دیکر ایک سنسان مقام پر لے جایا گیا۔ ابتدائی اطلاعات کے بموجب 38 افراد نے باری باری سے دونوں لڑکیوں کی عصمت ریزی کی لیکن پولیس نے بعدازاں اس خبر کی تردید کردی

اور کہا کہ افراد کی حقیقی تعداد ظاہر کردہ تعداد سے بہت کم تھی۔ تاحال 7 مشتبہ افراد کی تلاش جاری ہے جو مفرور ہیں۔ مقدمہ کے سلسلہ میں 9 افراد گرفتار کئے گئے تھے لیکن بعدازاں انہیں کوئی الزام عائد کئے بغیر رہا کردیا گیا۔ عصمت ریزی کا جرم ثابت ہوجانے پر خاطی کو 30 سال کی سزائے قید دی جاسکتی ہے۔ ملزموں میں دو غالب افراد نے دونوں لڑکیوں کی عصمت ریزی کی تردید کی ہے۔ ان میں سے ایک ملزم کا بیٹا جس کی عمر 15 سال ہے، 15 سالہ لڑکی کی عصمت ریزی کی تردید کی ہے۔ دوسرا نابالغ جس کی عمر 17 سال ہے، اس نے 17 سالہ لڑکی کی عصمت ریزی کا اعتراف کیا ہے۔ تمام چار ملزمین کو حراست میں رکھا گیا ہے۔ ذرائع ابلاغ میں اس واقعہ کی زبردست تشہیر ہوچکی ہے اور شدید فکرمندی پر مبنی مہم چلائی جارہی ہے۔