حکومت وعدوں کی تکمیل میں سنجیدہ، بی جے پی کے احتجاج پر ڈپٹی چیف منسٹر کا اسمبلی میں جواب
حیدرآباد۔/19 مارچ ، ( سیاست نیوز) سرکاری ملازمین کو حکومت کی جانب سے اعلان کردہ فٹمنٹ کی ادائیگی کے مسئلہ پر بی جے پی نے تلنگانہ اسمبلی میں احتجاج کیا۔وقفہ سوالات کے بعد بی جے پی رکن کشن ریڈی نے الزام عائد کیا کہ حکومت نے ملازمین کو 43فیصد فٹمنٹ کی ادائیگی کے سلسلہ میں جو احکامات جاری کئے گئے ہیں اس میں بقایا جات کی ادائیگی پر کوئی واضح موقف نہیں۔ حکومت کو چاہیئے کہ وہ اس سلسلہ میں وضاحت کرے۔ ڈپٹی چیف منسٹر کڈیم سری ہری نے بی جے پی ارکان کو تیقن دیا کہ حکومت ملازمین سے کئے گئے وعدوں کی تکمیل میں سنجیدہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ٹی آر ایس حکومت موافق سرکاری ملازمین حکومت ہے اور 43فیصد فٹمنٹ کے اعلان کے ذریعہ ملک میں تلنگانہ ریاست نے ریکارڈ قائم کیا ہے۔ بی جے پی ارکان اس وضاحت سے مطمئن نہیں ہوئے جس پر وزیر انفارمیشن ٹکنالوجی کے ٹی آر نے مداخلت کی اور کہا کہ حکومت نے ملازمین کے ساتھ 3وعدے کئے تھے جن میں تمام کی تکمیل کردی گئی۔ تلنگانہ انکریمنٹ، ہیلت کارڈ اور 43فیصد فٹمنٹ ان وعدوں میں شامل ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ قانون ساز کونسل کے صدرنشین سوامی گوڑ، پارلیمنٹری سکریٹری سرینواس گوڑ کا تعلق ملازمین کی تنظیموں سے رہا ہے۔ اس کے علاوہ ملازمین کے نمائندہ کو تلنگانہ پبلک سرویس کمیشن میں نامزد کیا گیا۔ کونسل کے گریجویٹ حلقہ سے بھی ملازمین کے نمائندہ کو ٹی آر ایس نے ٹکٹ دیا ہے۔ کے ٹی آر نے ریمارک کیا کہ بی جے پی چاہے کچھ کہے لیکن ٹی آر ایس امیدوار کی کامیابی یقینی ہے کیونکہ انہیں ملازمین کی تائید حاصل ہے۔ کے ٹی آر کے اس ریمارک پر بی جے پی ارکان اسپیکر کے پوڈیم تک پہنچ گئے اور احتجاج کرنے لگے۔ وہ اظہار خیال کا موقع دینے کی مانگ کررہے تھے۔ کے ٹی آر نے دوبارہ مداخلت کی اور کہا کہ فٹمنٹ کی ادائیگی کے سلسلہ میں چیف منسٹر سے بات چیت ہوئی اور وزیر فینانس یا چیف منسٹر اس کی وضاحت کریں گے۔ بی جے پی فلور لیڈر ڈاکٹر لکشمن نے کہا کہ حکومت کی جانب سے جاری کردہ ہیلت کارڈس کارپوریٹ ہاسپٹلس قبول نہیں کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر فٹمنٹ کے بقایا جات حکومت باؤنڈز کی شکل میں دے تو ان کا حال بھی ہیلت کارڈ کا ہوگا۔ بی جے پی نے یہ رقم نقد ادا کرنے کا مطالبہ کیا۔ بی جے پی کے کشن ریڈی نے حکومت کی جانب سے جاری کردہ جی او میں اس سلسلہ میں وضاحت نہ ہونے کی شکایت کی اور کہا کہ حکومت اس مسئلہ کو ٹالنے کی کوشش کررہی ہے۔ بعد میں اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے بی جے پی قائدین نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ پے ریویژن کمیشن کے بقایا جات کی ادائیگی کے سلسلہ میں وضاحت کرے۔ انہوں نے بقایا جات کی نقد ادائیگی کی مانگ کی۔