ملائیشیا کے اپوزیشن لیڈرانور ابراہیم کو پانچ سال کی قید

کوالا لمپور 10 فروری (سیاست ڈاٹ کام) ملائیشیاء کے اپوزیشن لیڈر انور ابراہیم کو اس ملک کی ایک اعلی ترین عدالت نے اغلام بازی وغیر فطری بدفعلی کے جرم کا مرتکب دیتے ہوئے گذشتہ سات سال سے جاری اس مقدمہ میں ان کی اپیل کو مسترد کردیا ۔ ملائیشیاء کے کئی نیوز چینلس نے اس فیصلہ کی اجرائی کے بعد پیش کی جانے والی ’’بریکنگ نیوز‘‘ میں کہا کہ انور ابراہیم قید سے آزادی کے لئے جاری اپنی قانونی جنگ ہار گئے جب وفاقی عدالت نے اغلام بازی کے الزام پر اپیل کی عدالت کے فیصلہ کو درست قرار دیا ۔ وفاقی عدالت کے جج نے تقریبا دو گھنٹوں تک یہ فیصلہ پڑھ کر سنایا جس میںکہا گیا کہ ’’اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ انور ابراہیم نے 2008 میں اپنے ایک مددگار کے ساتھ بدفعلی کی تھی۔ واضح رہے کہ 2012 میں ہائی کورٹ نے مسٹر انور ابراہیم کے خلاف پیش کردہ ثبوتوں پر سوال اٹھاتے ہوئے انہیں منصوبہ الزام سے باعزت بری کردیا تھا لیکن وفاقی عدالت نے آج ہائی کورٹ کے اس فیصلہ کو کالعدم کردیا اور 67 سالہ سرکردہ سیاسی رہنما انور ابراہیم کو جیل کی سلاختوں کے پیچھے بھیج دیا ۔ انور ابراہیم آج عدالت میں حاضری ہوئے تھے اس وقت وہاں جذباتی مناظر دیکھے گئے ۔ انہیں ان کے ارکان خاندان کے علاوہ دو ہزار سے زائد حامیوں نے گھیر لیا تھا اور حکومت کے خلاف زبردست نعرہ بازی کی گئی ۔ اپوزیشن اور انسانی حقوق تنظیموں نے وفاقی عدالت کے فیصلہ کی مذمت کریت ہوئے اس کو سیاسی محرکات پر مبنی قرار دیا اور کہا کہ اس فیصلے کا مقصد ملائیشیائی سیاست سے مسٹر انور ابراہیم کی دیرینہ وابستگی کو ختم کرنا ہے ۔ اقوام متحدہ میں انسانی حقوق ادارہ کے ترجمان روپرٹ کول ویل نے جنیوا میں اخباری نمائندوں سے بات چیت کے دوران اس فیصلہ پر تنقید کی اور کہا کہ جس الزام کے تحت انور ابراہیم کو جرم کا مرتکب قرار دیا گیا ہے وہ مجرمانہ یا فوجداری نوعیت کا نہیں ہے ۔ عدالتی فیصلے کے مطابق انور ابراہیم کو پانچ سال قید میں گذارنا ہوگا ۔ انہوں نے کہا کہ وہ بے قصور ہیں اور ملائیشیاء کی رشوت خور و نسل پرست حکومت کے خلاف اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔