کوالالمپور۔ 5؍جنوری (سیاست ڈاٹ کام)۔ انڈونیشیاء کے 51 شہری جو سمندر میں تلاطم کی بناء پر اور اِنجن کی خرابی کی وجہ سے گزشتہ پانچ دن تک سمندر میں پھنسے ہوئے تھے اور ملائیشیاء کے ساحل پر نہیں پہنچ سکے تھے، آج بچالئے گئے۔ ملائیشیاء کے عہدیداروں کے بموجب 34 افراد بشمول 14 خواتین اور 3 بچے جن میں ایک دو ماہ کی بچی بھی ہے، 28 دسمبر کو ماہی گیر کشتی میں سوار ہوئے تھے جب کہ وہ ملائیشیاء میں غیر قانونی طور پر داخل ہونا چاہتے تھے۔ روزنامہ ’اسٹار‘ کی خبر کے بموجب وہ جزیرہ سماٹرا سے انڈونیشیاء واپس ہورہے تھے جبکہ کشتی کا اِنجن خراب ہوگیا اور یہ پانی کے بہاؤ میں بہہ گئی۔ بحریہ کے ارکان عملہ نے اسے جمعرات کے دن شمالی ریاست پارکھ کے ساحل کے قریب دیکھا۔ تارکین وطن بھوک سے بے حال ہوگئے تھے اور ناخوشگوار موسم کی وجہ سے کشتی ہچکولے کھارہی تھی۔
ملائیشیاء کے بحری نفاذ قانون محکمہ کے ایک عہدیدار رزاق جوہان نے روزنامہ سے کہا کہ ان تمام سے اب غیر قانونی طور پر ملک سے روانہ ہونے کے بارے میں تفتیش کی جارہی ہے۔ رزاق اور دیگر عہدیدار فوری طور پر تبصرے کے لئے دستیاب نہیں ہوسکے۔ تقریباً 10 لاکھ انڈونیشیائی اور دیگر شہری جو علاقائی غریب ممالک سے تعلق رکھتے ہیں، غیر قانونی طور پر ملائیشیاء کے کھیتوں، تعمیراتی کمپنیوں، کارخانوں اور دیگر ملازمتوں پر کام کررہے ہیں۔ اکثر وہ معمولی کشتیوں کے ذریعہ ملائیشیاء میں غیر قانونی طور پر داخل ہوجاتے ہیں۔ متلاطم سمندر میں کشتی ڈوب جانے سے 7 انڈونیشیائی شہری غرق اور دیگر 33 لاپتہ ہوگئے تھے جبکہ وہ چھٹیاں مناکر اپنے گھر سے ملائیشیاء واپس ہورہے تھے۔