ملائیشیاء میں ہند و فیسٹول ، کارنیوال جیسا سماں

باتو کیوس(ملائشیا)3 فروری (سیاست ڈاٹ کام)ملائیشیاء کے تمام منادر میں آج زائد از ایک ملین ہندو پوجا کرنے کیلئے پہنچے جہاں وہ تھائی پوسم تہوار منار ہے ہیں جو رنگا رنگ تقریبات کے ذریعہ بھگوانوں سے اپنی عقیدت کیلئے لوگ مختلف ہوکس اور دیگر اشیاء اپنے جسم میں پیوست کردیتے ہیں۔ تقریبات کا مرکز دارالخلافہ کوالالمپور ہوتا ہے جہاں گذشتہ 125 سال سے ان تقریبات کا انعقاد کیا جاتا ہے جو انتہائی اہمیت کے حامل باتو کیوس میں منعقد کئے جاتے ہیں جو شہر کے نواحی علاقہ میںواقع ہے یہاں اس بات کا تذکرہ بھی دلچسپ ہوگا کہ یہ ایک ایسا علاقہ ہے جہاں تک پہنچنے کیلئے ہندو عقیدت مند دس گھنٹے طویل راستے کی تکمیل پیدل چل کر کرتے ہیں جسے وہ ایک ’’مقدس یاترا ‘‘ سے تعبیر کرتے ہیں ۔ بھگوان موروگن کیلئے بیش قیمتی تحفے چڑھائے جاتے ہیںاور زرد لباس میںملبوس ہزاروں عقیدت مند اپنے ہاتھوں میں دودھ کے برتن یا ناریل پکڑے ہوئے رہتے ہیں۔ دیگر لوگ چاندی کے بنے ہوئے رتھ پر 15 کیلو میٹر طویل راستہ طئے کرتے ہیںجو ایک جلوس کی شکل میں ایک مندر سے برآمد ہوتا ہے اور کیوس کی جانب رواں دواں رہتا ہے ۔ باتو کیوس تمل ہندووں کا ایک مقدس مقام تصور کیا جاتا ہے ۔ بعدازاں آخری مرحلہ مندر تک پہنچنے کا ہوتا ہے جس کیلئے 272 سیڑھیاں چڑھنا پڑتی ہیں۔ یہاں اس بات کا تذکرہ ضروری ہے کہ باتو کیوس میں آج کے مقدس دن 1.6 ملین ہندووں کی حاضری ہوگی علاوہ ازیں ہزاروں سیاح بھی یہاں آتے ہیں کیونکہ اس تہوار کی وجہ سے یہاں کارنیوال کا ماحول پیدا ہوجاتا ہے جسے ہر سیاح اپنے کیمرے میں قید کرنے کا خواہاں ہوتا ہے ۔ یہاں آکر لوگ بے شمار منتیں مانگتے ہیں ۔ کوئی صحت کیلئے ،کوئی تعلیم کیلئے ،کوئی کاروبار کیلئے اور کوئی شادی کیلئے ۔ کئی ہندو ایسے بھی ہیں جو پہلی بار یہاں آتے ہیں اور یہاں کے کارنیوال جیسے ماحول سے بیحد محظوظ ہوتے ہیں۔ تھائی پوسم تہوار کے بارے میں ایک روایت یہ بھی ہے کہ یہ اس خوشی میں منایا جاتا ہے جب دیوی پاروتی نے اپنے بیٹے لارڈ موروگن کو ایک ایسی ڈھال دی جس کے ذریعہ وہ اپنے دشمنوں کی زد میںنہیں آسکتا تھا۔