ہائی کورٹ میں دوسری لوک عدالت کا افتتاح ، چیف جسٹس سپریم کورٹ ایچ ایل دتو کا خطاب
حیدرآباد ۔ 7۔ دسمبر : ( پی ٹی آئی ) : سپریم کورٹ کے چیف جسٹس ایچ ایل دتو نے امید ظاہر کی ہے کہ ملک بھرمیں آج منعقدہ قومی لوک عدالتیں کم سے کم 10 لاکھ مقدمات کی یکسوئی میں مددگار ثابت ہوں گی ۔ حیدرآباد میں ہائی کورٹ آف ایڈجوڈیکیچر برائے تلنگانہ و آندھرا پردیش میں دوسری لوک عدالت کا افتتاح کرتے ہوئے ہندوستان کے چیف جسٹس نے تمام سطحوں پر لوک عدالتوں کے صدارتی افسران کو مشورہ دیا کہ وہ کسی مقدمہ کے تصفیہ کے لیے فریقوں پر دباؤ نہ ڈالیں ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ’’گذشتہ سال ہم اپنی کوشش میں کامیاب ہوئے تھے ۔ ملک بھر میں ہم 10 لاکھ سے زائد مقدمات کا تصفیہ کیے تھے ۔ حتی کہ اس سال بھی ہم نے 10 لاکھ سے زائد مقدمات کی یکسوئی کا ایک بڑا نشانہ مقرر کیا ہے جس طرح گذشتہ سال ہم نے کیا تھا ۔ ان کے اختتام پر میرے پاس اس کے قطعی اعداد دستیاب ہوجائیں گے ۔ یقینا میں کہنا چاہتا ہوں کہ میرے دوستوں نے ایک اچھا کام کیا ہے اور اس مرتبہ کچھ مزید مساعی کی ضرورت ہے ‘‘ ۔ چیف جسٹس دتو نے اس بات پر زور دیا کہ جو فریقین اپنے مقدمات و تنازعات کی یکسوئی کے لیے پہونچتے ہیں اپنے چہروں پر مسکراہٹ کے ساتھ واپس ہوں ۔ انہوں نے کہا کہ ’’ لوک عدالتوں میں جو کچھ مئیں نے دیکھا فریقین پر قدرے دباؤ رہتا ہے ۔ میرے نظریہ میں ، ان مسائل کا تصفیہ کرنے والے افراد کو چاہئے کہ وہ مسئلہ کو فریقین کی مرضی پر چھوڑ دیں اور انہیں ( فریقین کو ) خوشگوار انداز میں باہمی تصفیہ کا موقع دیں کیوں کہ بعض گوشوں سے ہم اکثر یہ بات سنتے ہیں کہ بعض دستاویزات پر دستخط کے لیے مجھ ( فریق ) پر دباؤ ڈالا گیا تھا ‘‘ ۔ جسٹس ایچ ایل دتو نے مزید کہا کہ ’’ میری معمولی رائے میں ایسا نہیں کیا جانا چاہئے ۔ ہم یہاں ( فیصلہ کی کرسی پر ) محض کسی تنازعہ کے تصفیہ کے لیے کسی فریق پر دباؤ ڈالنے کے لیے نہیں ہیں ۔ ان کا تنازعہ اس بات کا متقاضی ہوتا ہے کہ دونوں فریقین کے مابین خوشگوار انداز میں حل کیا جائے اور ( تنازعہ پر تصفیہ کے بعد ) جب وہ ( فریقین ) واپس جائیں تو اپنے چہروں پر مسکراہٹ کے ساتھ جائیں اور وہ ( فریقین ) اپنے تنازعہ کا تصفیہ کرنے والے افسر کا خوشی کے ساتھ شکریہ ادا کریں ۔ حیدرآباد کے ہائی کورٹ آف ایڈجوڈیکیچر کے چیف جسٹس کلیان جیوتی سین گپتا نے اس موقع پر خطاب کے دوران کہا کہ آندھرا پردیش اور تلنگانہ کی لوک عدالتوں میں بالترتیب 80 ہزار اور 91 ہزار مقدمات زیر تصفیہ ہیں ۔ اس تقریب کے موقع پر وکلاء کے ایک گروپ نے پلے کارڈس لہراتے ہوئے آندھرا پردیش کے لیے ہائی کورٹ قائم کرنے چیف جسٹس آف انڈیا سے درخواست کی ۔۔