جامع مسجد السلام میں جلسہ تعزیت، مولانا منتظم رضا ودیگر کا خطاب
حیدرآباد ۔ 28 جولائی (راست) انجمن صدائے قرآن کے زیراہتمام حضور تاج الشریعہ علامہ مفتی اختر رضا خان قادری ازہری علیہ الرحمہ کی یاد میں مسجد السلام سکھ ولیج میں 26 جولائی کو تعزیتی جلسہ منعقد ہوا۔ اولاً درود شریف کی محفل سجائی گئی۔ پھر حافظ رحمت علی کی تلاوت سے جلسہ کا آغاز ہوا۔ مولانا مشتاق، مولانا رضا اللہ نظامی اور الحاج منور نے نعت پاک کے گلدستے پیش کئے۔ اس کے بعد انجمن صدائے قرآن کے بانی و سرپرست مولانا منتظم رضا مصباحی نے حضورتاج الشریعہ کی حیات و خدمات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ تاج الشریعہ عالم اسلام کی وہ عظیم عبقری، علمی و روحانی شخصیت تھی جن کے مریدین و معتقدین کی تعداد کروڑوں میں ہے اور ان کی رحلت سے اتنا عظیم علمی و دعوتی خسارہ ہوا ہے کہ جس پر صرف اہلسنت و الجماعت ہی نہیں بلکہ تمام مکتبہ فکر کے علمی حلقوں میں غم کی لہر دوڑ گئی ہے۔ مولانا نے کہا کہ ازہری میاں نے 1963ء میں اعلیٰ تعلیم کے حصول کیلئے دنیا کی عظیم یونیورسٹی جامعہ ازہر قاہرہ مصر کا رخ کیا اور وہاں نمایاں کامیابی حاصل کرنے پر انہیں ’’جامعہ ازہر ایوارڈ‘‘ سے نوازا گیا۔ آپ کو جامعہ ازہر نے ’’فخرازہر‘‘ (The Pride of Azhar) کے ایوارڈ سے نوازا ہے اور Royal Islamic Strategic Study Center (RISSC) کے مطابق اس وقت دنیا کے 500 بااثر شخصیات میں سے 24 ویں درجہ پر حضور ازہری کا نام آتا ہے جس سے آپ کی شہرت و مقبولیت کا اندازہ ہوتا ہے۔ انہوں نے مزید کہاکہ تاج الشریعہ کے علمی کارناموں میں ’’جامعتہ الرضا للدراسات الاسلامیہ‘‘ کا قیام اور پانچ ہزار سے زائد فتاویٰ کے بشمول تقریباً پچاس کتابوںکی تصنیف قابل ذکر ہیں اور حضرت کے خطابات و ارشادات کے ذریعہ تقریباً 55 ممالک سے تعلق رکھنے والے لاکھوں لوگوں کے ایمان و عقائد کی حفاظت ہوئی ہے۔ افسوس کہ اہلسنت والجماعت کا یہ علمی سورج 20 جولائی کو غروب ہوگیا لیکن اس کی علمی و روحانی کرنیں کافی دنوں تک اہل اسلام کو روشن کرتی رہیں گی۔ آخر میں سلام رضا و دعا پر محفل کا اختتام ہوا۔ اس موقع پر الحاج محمد سلیم شیخ، الحاج عبدالستار خان، الحاج ریاض اللہ خان، رئیس اقبال، سید توصیف، محمد علی صدر، الحاج سلیمان شیخ، محمد ابوبکر امین، محمدسلیم خان سابق معتمد، محمد حنیف، عبدالقدیر سابق صدر، محمد حمید بھائی وغیرہ موجود تھے۔ انجمن صدائے قرآن ان تمام کا شکرگذار ہے۔