مفاہمت میں ناکامی کے بعد ٹی آر ایس اور کانگریس میں لفظی جنگ

کے سی آر پر وعدہ فراموشی کیلئے کانگریس کا الزام ، انضمام سے انکار وعدہ فراموشی نہیں کے سی آر کا جواب

حیدرآباد 16 مارچ( پی ٹی آئی) کانگریس اور ٹی آر ایس آئندہ انتخابات کیلئے مفاہمت کی کوششوں میں ناکام ہوجانے کے بعد اب ایک دوسرے کے خلاف لفظی جنگ میں ملوث ہوگئے ہیں۔ سابق ڈپٹی چیف منسٹر سی دامودر راج نرسمہا نے دعوی کیا کہ کانگریس کی صدر سونیا گاندھی نے علحدہ تلنگانہ کے خواب کو حقیقت میں تبدیل کیا جبکہ ٹی آر ایس ریاست کے قیام کے بعد کانگریس میں اپنے انضزام کے وعدہ سے منحرف ہوگئی۔ انہوں نے یاد دلایا کہ ٹی آر ایس نے کسی دلت لیڈر کو تلنگانہ کا چیف منسٹر بنانے کا وعدہ بھی کیا تھا۔ دامودر راج نرسمہا نے الزام عائد کیا کہ نیم علاقائی جماعت ٹی آر ایس کی قیادت دھوکہ دہی اور وعدہ فراموشی کی عادی ہے ۔ اس دوران ٹی آر ایس کے صدر کے چندر شیکھر راو نے الزام عائد کیا کہ کانگریس اور تلگودیشم اس علاقہ کے ترقیاتی پروگرام میں حائل کئی مسائل کے لئے ذمہ دار ہیں۔

چندرا شیکھر راو یہ بھی کہتے رہے کہ صرف ٹی آر ایس ہی تلنگانہ کی دوبارہ تعمیر کو یقینی بناسکتی ہے۔ ٹی آر ایس کے صدر نے کانگریس کی آخری امید پر بھی پانی پھیر تے ہوئے گذشتہ روز یہ کہا تھا کہ آنے والے لوک سبھا اور اسمبلی انتخابات میں کانگریس کے ساتھ کوئی مفاہمت نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے علحدہ تلنگانہ کے قیام کے بعد کانگریس میں انضمام سے ٹی آر ایس کے انکار پر جنرل سکریٹری ڈگ وجئے سنگھ کے ریمارکس کا حوالہ دیتے ہوئے سوال کیا کہ ’’وہ کہتے ہیں کہ کے سی آر نے انہیں دھوکہ دیا ہے لیکن کیا یہ دھوکہ دہی ہے؟ چندرا شیکھر راو نے گذشتہ روز یہاں اپنے پارٹی آفس پر کارکنوں کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ انہوں نے ٹی آر ایس کے کانگریس میں انضمام کی تجویز پیش کی تھی تا کہ اس علاقہ کو علحدہ ریاست بنایا جاسکے اور سینکڑوں نوجوانوں کو خودکشی سے روکا جاسکے ۔