نئی دہلی ۔ 18 جون ( سیاست ڈاٹ کام ) جنگ سے متاثرہ عراق میں 40 ہندوستانی ورکرس کا اغواء کرلیا گیا ہے ، جس کے بعد حکومت نے ان کا پتہ چلانے کیلئے تمام تر کوششیں شروع کردی ہیں۔ ان ورکرس میں اکثریت کا تعلق پنجاب اور شمالی ہند کے دیگر حصوں سے ہے ۔ یہ عراق کے ٹاؤن موصل میں واقع کنسٹرکشن کمپنی میں کام کررہے تھے ۔ وزارت اُمور خارجہ کے ترجمان سید اکبرالدین نے آج ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ حکومت ہند کو اغواء کنندگان کے بارے میں کوئی اشارہ نہیں ملا ۔
اس کے علاوہ مغویہ افراد کے بارے میں بھی ٹھوس اطلاع نہیں ملی ہے ۔ ہمیں اب تک جو کچھ پتہ چلا وہ انٹرنیشنل ریڈکریسنٹ اور دیگر انسانی حقوق کی تنظیموں سے ملنے والی اطلاعات ہیں۔ انھوں نے کہاکہ 40ہندوستانی شہریوں کا اغواء کیا گیا ہے اور یہ طارق نورالہدیٰ کمپنی میں ورکرس تھے ۔ انھوں نے بتایا کہ حکومت کو اب تک کسی کی طرف سے فون کال موصول نہیں ہوا اور نہ ہی کسی نے ہم سے رابطہ قائم کیا ہے ۔ دارالحکومت بغداد کے شمال مغرب میں تقریباً 400 کیلومیٹر کے فاصلے پر موصل شہر واقع ہے ۔ انھوں نے کہا کہ اغواء کنندگان نے تاوان یا مغویہ ہندوستانی شہریوں کو رہا کرنے کیلئے کسی طرح کی شرط کا بھی کوئی اشارہ نہیں دیا ہے ۔ انھوں نے بتایا کہ ہندوستان مختلف انسانی حقوق ایجنسیوں اور حکومت عراق سے ربط قائم رکھے ہوئے ہے اور اغواء کے واقعہ کے بارے میں زیادہ معلومات حاصل کی جارہی ہے ۔
ترجمان نے بتایا کہ یہ انتہائی مشکل صورتحال ہے ۔ ہم کمپنی سے بھی ربط قائم کئے ہوئے ہے ۔ اس کے ساتھ ساتھ انٹرنیشنل ریڈ کریسنٹ کے ساتھ ملکر کام کررہے ہیں جس نے اس اغواء کی توثیق کی ہے ۔ انھوں نے کہاکہ موجودہ مرحلے میں ان 40ہندوستانی ورکرس کو کس مقام پر رکھا گیا ہے اس تعلق سے بھی کچھ کہا نہیں جاسکتا ہے ۔ اس دوران وزیر خارجہ سشما سوراج کو پنجابی نوجوان کے ارکان خاندان کا فون کال موصول ہوا جس میں انھیں بچانے کیلئے ممکنہ مدد کی خواہش کی گئی ۔ منیندر سنگھ اُن پھنسے ہوئے ہندوستانیوں میں شامل ہے جو ملک واپس ہونا چاہتا ہے ۔ منیندر سنگھ کے بھائی گرپندر سنگھ نے سشما سوراج سے مدد کی خواہش کی ہے جس پر وزیرخارجہ نے یہ تیقن دیا کہ حکومت پھنسے ہوئے ہندوستانی شہریوں کو بچانے کی ممکنہ کوشش کرے گی ۔