مغربی کنارہ میں اسرائیلیوں اور فلسطینیوں کا تصادم

رملہ؍ یروشلم۔ 11 ڈسمبر (سیاست ڈاٹ کام) مغربی کنارہ اور مشرقی یروشلم میں آج کشیدگی میں اضافہ ہوگیا جبکہ فلسطینیوں اور اسرائیلی سرحدی پولیس نے فلسطینی کابینی وزیر کی موت کی متضاد اطلاعات کی بناء پر باہم تصادم ہوگیا۔ زیادابوعین کا اسرائیلی فوجیوں کے ساتھ کل ایک احتجاجی مظاہرہ کے دوران ہاتھا پائی میں انتقال ہوگیا تھا۔ فلسطینی اتھارٹی نے اپنے بیان میں اسرائیل پر ان کے ’’قتل‘‘ کا الزام عائد کیا کہ حالانکہ اسرائیلی ڈاکٹرس نے جو ابوعین کے پوسٹ مارٹم میں شامل تھے، دعویٰ کیا کہ ابوعین دباؤ کی وجہ سے قلب پر ہونے والے حملے سے فوت ہوگئے۔ فلسطینی وزیر زیادابوعین کی موت کی وجہ فلسطینیوں کے بموجب قبضہ گیر (اسرائیلی) فوجوں کی ان کو زدوکوب تھی۔ فلسطینی اتھارٹی نے کہا کہ پوسٹ مارٹم کے نتائج کو فیصلہ کیلئے فلسطینی قیادت کے سپرد کیا جائے گا۔ فلسطینی وزیر برائے شہری اُمور حسین الشیخ نے کہا کہ ابوعین کا انتقال اشک آور گیاس کے حد سے زیادہ استعمال اور ڈیافرام کے زبردست حملے کی وجہ سے ہوا تھا۔ انہوں نے کہا کہ اگر اسرائیل ابوعین کے قتل کا اعتراف کرلے تو ہمیں بین الاقوامی عدالت فوجداری سے رجوع ہونے کی کوئی ضرورت نہیں رہے گی۔

ڈائریکٹر فارنسک ادویہ وزارت صحت فلسطین صابر العلوی نے ماآن خبر رساں ادارہ سے کہا کہ ابوعین کے چہرے پر حملے سے ان کے دانت ہل گئے تھے اور ان کے حلق میں اتر گئے تھے۔ فلسطینی اتھارٹی کے ترجمان ایہاب بائسو نے کہا کہ پوسٹ مارٹم کے نتائج کی سماعت کے بعد حکومت فلسطین ، اسرائیل کو ابوعین کے قتل کا ذمہ دار قرار دیتی ہے تاہم اسرائیل کی وزارت صحت نے کہا کہ ڈاکٹروں نے یہ قطعی نتیجہ اخذ کیا ہے کہ ابو عین کی موت ان کے دل سے مربوط شریان میں رکاوٹ پیدا ہوجانے کے نتیجہ میں قلب پر حملے کا نتیجہ تھی۔ ہلکے داخلی اخراج خون اور گردن میں فشارالدم کے کوئی آثار نہیں ملے ہیں۔ متوفی قلب کی بیماری کا شکار تھے اور اس بات کے ثبوت موجود ہیں کہ ان کی خون کی شریانوں میں 80 فیصد رکاوٹ پیدا ہوچکی تھی۔ ایک ویڈیو جھلکی میں جھڑپ کے بعد ابو عین کو اپنا سینہ پکڑے ہوئے زمین پر بیٹھے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ فلسطینیوں کا ادعا ہے کہ اشک آور گیاس ان کے پھیپھڑوں میں پہنچ گئی تھی ۔ ویڈیو کی جھلکیاں اس کے بعد منقطع ہوگئی ہیں اور ابو عین کے گر پڑنے سے پہلے کے مناظر دکھائے گئے ہیں جس میں فوجیوں سے ان کا تصادم ہورہا ہے۔