استنبول ۔ 27 نومبر (سیاست ڈاٹ کام) صدر ترکی رجب طیب اردگان نے کہا کہ بیرونی طاقتیں مشرق وسطیٰ کے مسائل حل نہیں کرسکتیں کیونکہ مغربی ممالک مسلمانوں کو پسند نہیں کرتے۔ انہیں صرف دولت سے محبت ہے۔ طیب اردگان نے استنبول میں تنظیم اسلامی کانفرنس کی اسٹینڈنگ کمیٹی برائے معاشی و تجارتی تعاون سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم اپنے مسائل خود ہی حل کرسکتے ہیں۔ وہ برسر عام یہ بات کہہ رہے ہیں کہ غیرملکیوں کو تیل، سونے چاندی، ہیرے اور اسلامی دنیا میں سستی لیبر فورس سے دلچسپی ہے۔ وہ مشرق وسطیٰ میں لڑائی جھگڑے ، تنازعات اور جنگ چاہتے ہیں۔ وہ ایک دوست کی طرح دکھائی دیتے ہیں لیکن ان کی خواہش یہ ہوتی ہے کہ ہم ہلاک ہوجائیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ ہم اپنے بچوں کو مرتے ہوئے دیکھیں۔ انہوں نے کہا کہ آخر اس حقیقت کو ہم کب تک نظرانداز کرتے رہیں گے۔ طیب اردگان نے کہا کہ مشرق وسطیٰ کے ممالک مغرب کی مدد کے بغیر خود اپنے مسائل حل کرسکتے ہیں۔ اسلامی دنیا کو درپیش بحران کا واحد حل اتحاد، یگانگت اور اخوت میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب تک ہم متحد رہیں گے، ہمارے مسائل حل کرپائیں گے۔ اسلامی ممالک جنہوں نے حالیہ عرصہ کے دوران کافی معاشی ترقی کی، آج تاریخ کے بدترین انسانی و سیاسی بحران سے دوچار ہیں۔ اگر ہم متحد ہوں تو فلسطین کی جو یکا و تنہا ہوچکا ہے، مدد کرسکتے ہیں۔ عراق میں جاری خونریزی اور شام میں بچوں کی ہلاکتوں کا سلسلہ روکنا بھی ممکن ہے۔ انہوں نے امریکہ کی دریافت کے بارے میں حالیہ تبصرہ پر مغربی میڈیا کی تنقیدوں کو بھی مسترد کردیا اور کہا کہ ان کا بیان سائنٹفک ریسرچ پر مبنی ہے۔