معظم جاہی مارکٹ کلاک ٹاور کی گھڑیاں پھر سے ناکارہ

بلدیہ اور محکمہ آثار قدیمہ وقت کی آہٹ سننے سے قاصر ، 80 سالہ قدیم عمارت سے مجرمانہ غفلت
حیدرآباد ۔ 15 ۔ مئی : ( نمائندہ خصوصی ) : حضور نظام نواب میر عثمان علی خاں بہادر اور دیگر آصف جاہی حکمرانوں کے دور میں حیدرآباد فرخندہ بنیاد اور اس کے اطراف و اکناف جن تاریخی آثار کی تعمیرات عمل میں لائی گئی ۔ انہیں بے مقصد تعمیر نہیں کیا گیا تھا بلکہ آصف جاہی حکمرانوں نے یہ سوچ کر ان تاریخی عمارتوں کی تعمیر عمل میں لائی تاکہ مستقبل میں بھی ان کی حکمرانی دور اندیشی ، تہذیب و تمدن سے ان کے لگاؤ اور حیدرآباد دکن کی عظمت رفتہ کو یاد کرتے ہوئے فخر محسوس کریں ۔ ہر زمانے میں وقت کو کافی اہمیت دی گئی ۔ جس قوم نے وقت کی قدر کی دنیا نے اس کی قدر دانی کی اور جس نے وقت کی بے قدری کی زمانے نے اسے گمنامی کے گہرے غاروں میں ڈھکیل دیا ۔ وقت کی اہمیت و افادیت اور قوموں کی ترقی عروج و زوال میں اس کے رول کو دیکھتے ہوئے ہی آصف جاہی حکمرانوں نے حیدرآباد دکن بالخصوص شہرحیدرآباد میں بے شمار کلاک ٹاورس تعمیر کروائے ان میں سے ایک اہم ترین کلاک ٹاور یا گھنٹہ گھر قلب شہر میں تعمیر کرایا گیا اور اسے آصف سابع نواب میر عثمان علی خاں بہادر کے دوسرے فرزند معظم جاہ بہادر سے موسوم کیا گیا ۔ تقریبا 1.77 ایکڑ اراضی پر محیط تاریخی معظم جاہی مارکٹ پر تعمیر کردہ معظم جاہی مارکٹ اور گھنٹہ گھر کئی ایک لحاظ سے اہمیت رکھتا ہے ۔ یہ قلب شہر میں واقع ہے اور بتایا جاتا ہے کہ نواب میر عثمان علی خاں بہادر نے اس گھنٹہ گھر میں نصب کرنے کے لیے گھڑیاں بطور خاص انگلینڈ سے منگوائی تھیں ۔ عوام اس ٹاور کی گھڑیوں کو دیکھ کر اپنی جیبی اور دستی گھڑیوں میں وقت ملا لیا کرتے تھے ۔ لیکن بڑے افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ جس طرح حیدرآبادی تہذیب کو پامال کرنے کی کوششیں کی جارہی ہیں اس طرح قطب شاہی اور آصف جاہی حکمرانوں کے دور میں تعمیر کردہ تاریخی آثار سے بھی مجرمانہ غفلت برتی جارہی ہے ۔ اس کی تازہ ترین مثال 1935 میں سٹی امپرومنٹ بورڈ کی جانب سے تعمیر کردہ معظم جاہی مارکٹ کے کلاک ٹاور کی گھڑیاں ہیں جو بالکل تباہ ہوچکی ہیں ہم نے سطور بالا میں ان گھڑیوں کے بطور خاص انگلینڈ سے منگوائے جانے کی بات لکھی ہے لیکن ایسا محسوس ہوتا ہے کہ سقوط حیدرآباد کے بعد ہی ان گھڑیالوں کو وہاں سے غائب کردیا گیا ۔ اس بارے میں بلدیہ اور محکمہ آثار قدیمہ کے حکام ہی بہتر انداز میں وضاحت کرسکتے ہیں ۔ اگرچہ تاریخی معظم جاہی مارکٹ جس کی تعمیر میں صرف گرانائٹ استعمال کیا گیا تھا ۔ اب بھی دیکھنے والوں کو متاثر کیے بناء نہیں رہتی لیکن شاہی اور جمہوری حکومت میں جس طرح زمین آسمان کا فرق ہے اسی طرح معظم جاہی مارکٹ کی موجودہ اور سابقہ حالت میں بھی ایسا ہی فرق پایا جاتا ہے ۔ 80 سال قبل جب یہ عمارت تعمیر کی گئی تھی تب اس کی رونق دیکھنے سے تعلق رکھتی تھی لیکن جمہوریت میں متعصب عہدیداروں اور حکمرانوں نے جیسے اس کی کشش اور رونق چھین لی ہو ۔ بہر حال معظم جاہی مارکٹ کلاک ٹاور کی تمام سمتوں میں نصب کردہ گھڑیاں کام نہیں کررہی ہیں ۔ اس کے باوجود بلدیہ یا محکمہ آثار قدیمہ کوئی بھی اس پر توجہ نہیں دے رہا ہے ۔ 1980 میں بھی یہ گھڑیاں ایسی ہی خراب ہوگئی تھیں جس کی درستگی کے لیے 6 تا 7 برس کا عرصہ لگ گیا ۔ کہتے ہیں کہ کسی کا بھی وقت ہمیشہ ایک نہیں رہتا ۔ اگر آج متعصب عہدیدار سمجھتے ہیں کہ سردست وقت ان کا ساتھ دے رہا ہے تو انہیں جان لینا چاہئے کہ آنے والا وقت ان کا نہیں ہوگا ویسے بھی وقت ہمیشہ ایک سا نہیں رہتا ۔۔