خاطیوں کو کیفرکردار تک پہنچانے کا مطالبہ، سیول لبرٹیز کمیٹی کے عہدیداروں کی پریس کانفرنس
حیدرآباد ۔ 13 ڈسمبر (سیاست نیوز) شہری حقوق کمیٹی
(Civil Liberties Committee (CLC) نے مرکزی و ریاستی حکومتوں، ملٹری اور پولیس کے اعلیٰ عہدیداروں سے پرزور مطالبہ کیا کہ وہ فوری طور پر مہدی پٹنم کے صدیق نگر ملٹری ایریا میں گذشتہ 8 اکٹوبر کو 12 سالہ معصوم شیخ مصطفی کو ملٹری جوانوں کی جانب سے مبینہ بدفعلی اور کیروسین چھڑک کر آگ لگا کر ہلاک کردیئے جانے کے واقعہ میں ملوث ملٹری جوانوں کی نشاندہی کرتے ہوئے انہیں گرفتار کرکے کیفرکردار تک پہنچانے کے علاوہ متوفی کے خاندان کو 10 لاکھ روپئے بطور امداد ایکس گریشیاء ادا کیا جائے۔ ملٹری جوان اپلاراجو خودکشی واقعہ پر ملٹری عہدیدار کی مکمل تحقیقات کروائیں۔ چیف منسٹر تلنگانہ متوفی شہید مصطفی کے خاندان سے ملاقات کریں۔ مصطفی قتل کیس کو سی بی آئی کے ذریعہ آزادانہ تحقیقات کراوئی جائیں تاکہ اس واقعہ کے پس پردہ محرکات کا پتہ چلایا جاسکے اور خاطیوں کو سخت سے سخت سزاء دی جاکر متوفی شیخ مصطفی کے خاندان کے ساتھ انصاف روا رکھا جاسکے۔ ان خیالات کا اظہار آج یہاں ریاستی نائب صدر سیول لبرٹیز کمیٹی پروفیسر جی لکشمن، اسٹیٹ جوائنٹ سکریٹریز سیول لبرٹیز کمیٹی مسٹر وی رگھوناتھ ایڈوکیٹ اور این نارائنا راؤ نے پریس کانفرنس کو مخاطب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے ملٹری جوانوں کی جانب سے معصوم شیخ مصطفی کے ساتھ کی گئی گھٹیا حرکت اور قتل پر اپنے گہرے افسوس کا اظہا رکرتے ہوئے کہا کہ جب ملک کی حفاظت کرنے والی ملٹری کے جوانوں کا ہی یہ حال رہا تو ملٹری والوں پر عوام کس حد تک اپنے محافظ پر اعتماد کو برقرار رکھ سکیں گے۔ انہوں نے مرکزی و ریاستی حکومتوں کو اپنی شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ مصطفی قتل واقعہ پیش آنے کے 2 ماہ گذرجانے کے باوجود مرکزی و ریاستی حکومتوں کی جانب سے نہ اس واقعہ کی تحقیقات کراوئی گئی ہیں اور نہ ہی اس واقعہ میں ملوث ملٹری جوانوں کی نشاندہی کرتے ہوئے انہیں کیفرکرار تک پہنچایا گیا ہے اور نہ ہی شیخ مصطفی کے افراد خاندان کو پرسہ اور امداد دی گئی بلکہ اس مقدمہ کو مشتبہ موت کا مقدمہ درج رجسٹر کرتے ہوئے کیس کو برفدان کی نذر کردیا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ وزیرداخلہ مسٹر نائنی نرسمہا ریڈی اور میئر پدما راؤ نے واقعہ میں ملوث خاطیوں کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے لواحقین کی امداد کا تیقن بھی دیا تھا لیکن اس پر عمل ندارد ہے۔ انہوں نے کہا کہ صدیق نگر کے شہریوں سے دوسرے درجے کے شہر جیسا سلوک برتا جارہا ہے اور ملٹری کے جوانوں کی جانب سے صدیق نگر کنٹونمنٹ علاقہ کے عوام کے ساتھ ظلم و زیادتی کی جارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر جب کبھی بھی کسی اعلیٰ ذات یا سرمایہ دار پر حملہ یا قتل کی واردات پیش آتی ہے تو پولیس حرکت میں آتے ہوئے اندرون 24 گھنٹے قاتلوں اور خاطیوں کی گرفتاری عمل میں آتی ہے جبکہ شیخ مصطفی جو مسلم اقلیت سے تعلق رکھتا ہے اور وہ معاشی طور پر پسماندہ خاندان بھی ہے جس کی وجہ سے اس واقعہ پر توجہ نہیں دی جارہی ہے جو ایک انتہائی افسوسناک بات ہے۔ انہوں نے مرکزی و ریاستی حکومتوں پر زور دیا کہ وہ سکندرآباد کنٹونمنٹ علاقہ اور مہدی پٹنم کنٹونمنٹ ملٹری کیمپس کو آبادی اور شہر سے دور منتقل کیا جائے تاکہ ملٹری والوں کی جانب سے ڈھائے جانے والے ظلم سے عوام کو نجات مل سکے۔ اس موقع پر صدر سیول لبرٹیز کمیٹی حیدرآباد سٹی مسٹر پی ایم راجو اور جنرل سکریٹری سی ایل سی مسٹر محمد اسمٰعیل بھی موجود تھے۔