ریونیو انسپکٹر کی آمد کے بعد نقصانات کا تخمینہ
کیندرہ پاڑہ ۔ 18 اگست (سیاست ڈاٹ کام) کیندرہ پاڑہ ڈسٹرکٹ میں سیلااب سے متاثرہ افراد اپنے تباہ شدہ مکانات کی درستگی سے گریز کررہے ہیں اور مکانات کو جوں کا توں حالت میں رکھا گیا ہے تاکہ حکومت کی امداد سے انہیں محروم نہ ہونا پڑے۔ اب جبکہ وہاں شدید سیلاب کے بعد زندگی معمول کی جانب لوٹ رہی ہے لیکن یہ متاثرہ افراد کی بدقسمتی ہی کہی جائے گی کہ وہ اپنے تباہ شدہ مکانات کی درستگی چاہتے ہوئے بھی نہیں کرسکتے کیونکہ نقصانات کا تخمینہ لگانے کا عمل جاری ہے۔ اگر انہوں نے مکانات کی مرمت کروا کے انہیں درست کروا لیا تو کہیں حکومت کی جانب سے دی جانے والی امداد سے محروم نہ ہوجائیں۔ دریں اثناء کیندرہ پاڑہ ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آفیسر رجنی کانتا موہنتی نے کہا کہ سیلاب کی شدت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہیکہ تقریباً 3611 ایسے مکانات جن کی دیواریں مٹی سے بنائی گئی تھیں، سیلاب کی تاب نہ لا کر ڈھیر ہوگئے اور یہ بھی کہا کہ مزید مکانات منہدم ہونے کی رپورٹس بھی مل رہی ہیں۔ لہٰذا منہدمہ مکانات کی جملہ تعداد معلوم کرنے کا عمل جاری ہے جس کے لئے متاثرہ علاقوں کے تحصیلداروں اور بی ڈی اوز کو یہ ذمہ داری سونپی گئی ہے۔ تاہم متاثرہ افراد اپنے تباہ شدہ مکانات کے علاوہ دیگر اشیاء کو بھی جوں کا توں موقف دیئے ہوئے ہیں کیونکہ انہیں اندیشہ ہیکہ اگر انہوں نے ایسا نہیں کیا تو حکومت کی جانب سے ملنے والی امداد سے کہیں محروم نہ ہوجائیں حالانکہ متاثرہ افراد میں ایسے لوگ بھی ہیں جن کے پاس اپنے مکانات دوبارہ تعمیر کرنے کیلئے وسائل موجود ہیں لیکن انہوں نے اب تک ایسا نہیں کیا۔