نئی دہلی 8 جولائی ( سیاست ڈاٹ کام ) اپنے اولین بجٹ سے قبل وزیر فینانس مسٹر ارون جیٹلی نے آج کہا کہ اقتصادی خسارہ کو ایک قابل قبول سطح پر برقرار رکھنے کی ضرورت ہے اور اس کیلئے اخراجات کو محدود کرنے کی بجائے معاشی توسیع اور ٹیکس نظام میں بہتری کی راہ اختیار کی جاسکتی ہے ۔ راجیہ سبھا میں وقفہ صفر کے دوران ضمنی سوالات کے جواب دیتے ہوئے مسٹر ارون جیٹلی نے کہا کہ اقتصادی بہتری ضروری ہے
کیونکہ اگر یہ خسارہ قابو سے باہر ہوگیا تو اس کے نتیجہ میں فوری اور ضروری اخراجات کیلئے بھی قرض حاصل کرنا پڑیگا ۔ مسٹر جیٹلی نے کہا کہ اگر ہم موجودہ اور فوری اخراجات کیلئے قرض حاصل کرنے پر مجبور ہوجائیں تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ ہم اپنی آمدنی سے زیادہ خرچ کر رہے ہیں۔ اگر ہم اپنی آمدنی سے زیادہ خرچ کرتے ہیں تو ہم قرض کے جال میں پھنستے چلے جائیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ اقتصادی خسارہ کو ایک قابل قبول سطح تک برقرار رکھنے کی ضرورت ہے اور موجودہ قابل قبول سطح یہ ہے کہ اسے تین فیصد تک لایا جائے ۔ انہوں نے کہا کہ اگر معیشت کو وسعت دیتے ہوئے اقتصادی خسارہ کو کم کیا جاتا ہے تو انہیں شخصی طورپر بہت خوشی ہوگی ۔ بہتر ٹیکس ڈھانچہ بھی اس میں معاون ثابت ہوسکتا ہے
اور ٹیکس کلکشن میں اضافہ ہونا چاہئے ۔ یہ واضح کرتے ہوئے کہا کہ اقتصادی خسارہ کو بہتر مالیہ وصولی کے ذریعہ یا پھر اخراجات میں کمی کرتے ہوئے قابو میں کیا جاسکتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ جب آپ کم خرچ کرینگے تو اس سے معیشت بھی سست ہوسکتی ہے ۔ ایسے میں بہتر یہی ہے کہ جہاں ممکنہ حد تک اخراجات کو کم کیا جائے وہیں مالیہ وصولی میں بہتری پیدا کی جائے ۔ انہوں نے تاہم کہا کہ استثنائی صورتحال میں جیسے 2008 – 09 کے عالمی معاشی انحطاط جیسے وقتوں میں اقتصادی خسارہ کو پس پشت ڈالتے ہوئے معیشت کی رفتار کو بہتر بنانے پر توجہ دینی پڑتی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایسے حالات ہیں جہاں از خود ہی معاشی اور اقتصادی خسارہ میں اضافہ ہوتا ہے ۔ 2013 – 14 میں اقتصادی خسارہ 4.5 فیصد رہا ہے جبکہ سابق ایک سال میں یہ 5.8 فیصد تک پہونچ گیا تھا ۔ گذشتہ تین سال کے دوران اس میں کمی آتی جا رہی ہے ۔