معاشی صورتحال پر وہائیٹ پیپرس کی اجرائی سے اتفاق

برقی بحران سے نمٹنے اقدامات ، تین سال میں فاضل ، حیدرآباد کے اطراف آئی ٹی منتقل کیلئے رقم مختص : کے سی آر
حیدرآباد /14 نومبر ( این ایس ایس ) تلنگانہ کے چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے آج کہا کہ برقی کی پیداوار اور سربراہی کے معاملہ میں یہ ریاست مستقبل میں یقیناً ایک کرشمہ دیکھے گی ۔ برقی بحران سے نمٹنے کیلئے ریاستی حکومت ممکنہ مساعی کر رہی ہے ۔ چھتیس گڑھ سے 1000 میگاواٹ برقی کی خریدی بھی ان ہی کوششوں کا ایک حصہ ہے ۔ چیف منسٹر نے کہا کہ رواں اسمبلی اجلاس کے اختتام کے بعد ایک کل جماعتی وفد نئی دہلی روانہ ہوگا اور برقی کے مسئلہ پر مرکز سے نمائندگی کی جائے گی ۔ مسٹر کے چندر شیکھر راؤ ( کے سی آر ) ایوان اسمبلی میں آج برقی کے مسئلہ پر بحث کے دوران کانگریس کے رکن ملو بھٹی وکرامارکا کے ایک سوال کا جواب دے رہے تھے ۔ اپوزیشن جماعتوں اور ذرائع ابلاغ کی طرف سے ظاہر کردہ اندیشوں کا ازالہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ دیگر مختلف ذرائع سے برقی کے حصول کے بارے میں کوئی شکوک و شبہات نہیں رہنا چاہئے ۔ چھتیس گڑھ سے حصول برقی کیلئے نظام آباد کے ڈچپلی سے مہاراشٹرا کے واردھا میں پہلے ہی کام شروع کردیا گیا ہے ۔ چیف منسٹر نے ادعاء کیا کہ 2015 تک مرکز سے حاصل ہونے والے 300 میگاواٹ کے بشمول مختلف ذرائع سے ریاست میں 2000 میگاواٹ برقی دستیاب رہے گی ۔ اس طرح آئندہ تین سال کی مدت میں ریاست تلنگانہ میں 20,000 میگاواٹ برقی فاضل رہے گی ۔ کے سی آر نے کہا کہ کرشنا پٹنم اور ہندوجہ پراجکٹوں سے تلنگانہ کو یقیناً برقی کا مستحقہ حصہ حاصل ہوگا ۔ حالانکہ حکومت آندھراپردیش کی جانب سے رکاوٹیں پیدا کی جارہی ہیں جس کے باوجود تلنگانہ ان دونوں پراجکٹوں سے برقی کا حصہ حاصل کرے گا ۔
کے سی آر نے الزام عائد کیا کہ موجودہ برقی بحران سابق حکومتوں کی غفلت و نااہلی کا نتیجہ اور ٹی آر ایس حکومت ، ریاست کی تمام اپوزیشن جماعتوں کو اعتماد میں لیتے ہوئے اس بحران سے نمٹنے گی ۔ انہوں نے کہا کہ ’’ غریبوں کی فلاح و بہبود اور سنہرے تلنگانہ کی تعمیر کیلئے ہم سب کو متحدہ طور پر کام کرنا ہوگا ‘‘۔پی ٹی آئی کے بموجب مسٹر چندر شیکھر راؤ نے بحث پر بحث کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ حکومت تلنگانہ 2015-16 کے سالانہ بجٹ کی پیشکشی سے قبل ریاست کی معاشی صورتحال پر وہائٹ پیپر جاری کرے گی ۔ اپوزیشن اور حلیف جماعتوں کے ارکان کی تجاویز پر تلنگانہ کے چیف منسٹر نے تلنگانہ قانون ساز اسمبلی میں کہا کہ ریاست کی معاشی صورتحال پر وہائٹ پیپر کی اجرائی سے انہیں کوئی اعتراض نہیں ہوگا ۔ انہوں نے کہا کہ ’’ مابعد تقسیم ایسے مسائل ہیں جنہیں حل کرنا ہے ۔ مرکز کی طرف سے دئے جانے والے بعض قرض ہنوز حکومت آندھراپردیش کے کھاتوں میں جمع ہو رہے ہیں ۔ بہرحال توقع ہے کہ آئندہ ریاستی بجٹ کی پیشکشی سے قبل تمام مسائل حل کرلئے جائیں گے ۔ کے سی آر نے کہا کہ حیدرآباد کے اطراف قائم کئے جانے والے انفارمیشن ٹکنالوجی سرمایہ کاری کے خصوصی علاقہ کیلئے 6000 تا 10,000 ہزار کروڑ روپئے جاری کئے جائیں گے ۔ آدی باٹلہ میں واقع ٹاٹا کنسلٹنسی سرویسیس ( ٹی سی ایس ) نے 27000 ملازمین فراہم کرنے کا وعدہ کیا ہے ۔ ویپرو کی طرف سے 5000 افراد کو روزگار فراہمی کی جائے گی ۔ کے سی آر نے مزید کہا کہ ریاستی حکومت مختلف کارپوریشنوں کے بشمول اپنے سرکاری محکمہ جات میں 100,000 افراد کو روزگار فراہم کرے گی ۔ تلنگانہ پبلک سرویس کمیشن بہت جلد تشکیل دیا جائے گا ۔ پیشہ ورانہ کورسیس میں زیر تعلیم طلبہ کی تعلیمی فیس کی باز ادائیگی ( ری ایمبرسمنٹ ) کے بارے میں چیف منسٹر نے کہا کہ تمام مستحق طلبہ کو یہ فائدہ پہونچایا جائے گا ۔ چندر شیکھر راؤ نے کہا کہ ’’ میں طلبہ کے تئیں منفی نہیں ہوں ، میں صرف جعلی اور فرضی اداروں کے تئیں منفی و مخالانہ رائے رکھتا ہوں ۔ فیس ری ایمبرسمنٹ کے فوائد پہونچانے کیلئے حکومت تلنگانہ کی ’’ فاسٹ ‘‘ اسکیم پر کام کیا جارہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ 1,587 کروڑ روپئے کے بقایاجات گذشتہ چار سال سے ادا طلب ہیں ۔ فیس ری ایمبرسمنٹ ’’ اسکیم کیلئے ح کومت نے بجٹ میں 2,537 کروڑ روپئے مختص کئے ہیں ۔ قبل ازیں وزیر فینانس نے بجٹ پر عام بحث کا اختتام کیا اور دعوی کیا کہ ریاستی حکومت سنہرا تلنگانہ بنانے کے عہد کی پابند ہے ۔ انہوں نے یہ دعوی بھی کیا کہ ریاستی حکومت کی طرف سے 5 نومبر کو پیش کردہ بجٹ سے عوام کے اعتماد میں اضافہ ہوا ہے ۔