معاشی ترقی میں کمی سست حکمرانی کا نتیجہ : گورنر آر بی آئی

نئی دہلی 5 ستمبر ( سیاست ڈاٹ کام ) معاشی ترقی کی شرح میں کمی کو سست حکمرانی اور قدرتی وسائل کے الاٹمنٹ میں بدعنوانیوں کا نتیجہ قرار دیتے ہوئے گورنر ریزرو بینک آف انڈیا رگھو رام راجن نے کہا کہ آئندہ تین سال میں سیاسی استحکام کے نتیجہ میں جملہ گھریلو پیداوار کی شرح میں بہتری پیدا ہوکر یہ 7 فیصد تک پہونچ جائیگی ۔ مسٹر راجن نے بوسٹن میں کل سرمایہ کاروں کے ایک گروپ سے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ ہندوستان میں گذشتہ دو سال میں جملہ گھریلو پیداوار 8 – 9 فیصد سے گھٹ کر4 – 5 فیصد تک پہونچ گئی تھی اس کی وجہ ماحولیات اور اراضی حصول کے مسائل تھے ۔ اس کے علاوہ تاخیر کی وجہ یہ رہی کہ اقتصادی اور مالیاتی امداد ی پیکج سے دستبرداری اختیار کرلی گئی تھی اور حکمرانی سست رفتار تھی ۔ انہوں نے کہا کہ قدرتی وسائل کے الاٹمنٹ میں تاخیر کی وجہ سے بھی یہ صورتحال پیدا ہوئی تھی ۔ مسٹر راجن نے کہا کہ اب جبکہ ملک میں سیاسی استحکام پیدا ہوگیا ہے اور کاروباری اور سرمایہ کاری کا ماحول بھی بہتر ہوتا جا رہا ہے ایسے میں جملہ گھریلو پیداوار آئندہ تین برسوں میں 7 فیصد تک پہونچ سکتی ہے ۔ واضح رہے کہ سال 2012 – 13 اور 2013 – 14 میں ہندوستان کی جملہ گھریلو پیداوار کی شرح گھٹ کر پانچ فیصد تک رہ گئی تھی ۔ جاریہ اقتصادی سال میں ریزرو بینک آف انڈیا کو یہ امید ہے کہ یہ شرح کچھ حد تک بہتر ہوکر 5.5 فیصد تک پہونچ جائیگی ۔ کوئلہ بلاکس الاٹمنٹ پر سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلہ کا حوالہ دیتے ہوئے مسٹر راجن نے کہا کہ اس فیصلے کے نتیجہ میں مختصر مدت کیلئے حالانکہ غیر یقینی کیفیت پیدا ہوسکتی ہے لیکن طویل مدت کیلئے

یہ ایک بہترین فیصلہ ہے اور اس کے ترقی پر مثبت اثرات مرتب ہونگے ۔ افراط زر کے تعلق سے مسٹر رنگا راجن نے کہا کہ جہاں تک افراط زر کی بات ہے یہ ابھی تک بہت زیادہ ہے کیونکہ سربراہی میں ابھی بہتری نہیں ہوئی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ غذائی افراط زر کی شرح تشویش کی بات ہے اور چونکہ جاریہ سال مانسون معمول سے کم ہو رہا ہے ایسے میں افراط زر کی شرح پر نظر رکھنے کی ضرورت ہے ۔ جولائی میں غذائی افراط زر کی شرح 8.43 فیصد تک درج کی گئی تھی جبکہ ریٹیل افراط زر کی شرح 7.96 فیصد تھی ۔ ریزرو بینک آف انڈیا جاریہ سال ریٹیل افراط زر کی شرح کو 8 فیصد تک اور آئندہ سال 6 فیصد تک کرنے کا منصوبہ رکھتا ہے اور اس کیلئے اس نے ایک مستحکم مالیتی پالیسی تیار کی ہے ۔