مظفر نگر ۔ /10 ستمبر (سیاست ڈاٹ کام) صدر بی جے پی امیت شاہ کے خلاف نفرت انگیز تقریر کرنے کا کیس درج کیا گیا ہے ۔ اترپردیش لوک سبھا انتخابات کے لئے کی گئی مہم کے دوران انہوں نے ’’قابل اعتراض‘‘ تقریر کی جو ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی تھی ۔ 49 سالہ امیت شاہ کے خلاف چارج شیٹ داخل کی گئی ہے ۔ مقامی عدالت میں یہ چارج شیٹ ان کے نسل پرستانہ ‘ ذات پات اور طبقہ واری مذہبی بنیادوں پر ووٹ مانگنے کی مبینہ حرکت پر داخل کی گئی ہے ۔ نیو منڈی سرکل کے ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ پولیس یوگیندر سنگھ نے کہا کہ چارج شیٹ کو تعزیرات ہند کی مختلف دفعات کے تحت داخل کیا گیا ہے جس میں ( مذہب ‘ نسل ‘ پیدائش مقام وغیرہ کی بنیادوں پر مختلف گروپس کے درمیان منافرت پھیلانے) کی دفعہ 153A کے تحت اور (کسی بھی طبقہ کے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہونچانے کے ارادے سے قصداً بیان دینے ) کے دفعہ 295A کے تحت اور دفعہ 123-3 کے تحت بھی مقدمہ درج کیا گیا ۔ پولیس نے الیکشن کمیشن کی ہدایت کے باعث ضابطہ اخلاق کی مبینہ خلاف ورزیوں کے لئے امیت شاہ کے خلاف کیس درج رجسٹر کیا جس کے بعد ان پر /4 اپریل 2014 ء کو انتخابی مہم سے بھی باز رکھا گیا ہے ۔ پولیس نے یو پی میں ان کی انتخابی مہم پر پابندی عائد کردی ۔ امیت شاہ کے خلاف نئی منڈی پولیس اسٹیشن میں ایف آئی آر درج کیا گیا ۔ ضلع عہدیدار نے اس کیس کو تحقیقات کے لئے سب انسپکٹر بی ایل شاہ کے سپرد کردیا ہے ۔ امیت شاہ اس بڑے تنازعہ میں اس وقت پھنس گئے جب انہوں نے 2014 ء لوک سبھا انتخابات میں مبینہ طور پر کہا تھا کہ گزشتہ سال اترپردیش میں مظفر نگر میں ہوئے فسادات کا انتقام لینے کا وقت آگیا ہے ۔ امیت شاہ کے اس ریمارک ’’انتقام‘‘ لینے کا نوٹ لیتے ہوئے الیکشن کمیشن نے بادی النظر میں ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کا نوٹس جاری کیا تھا ۔ اس پر امیت شاہ نے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کرنے کی تردید کی تھی اور الیکشن کمیشن سے کہا تھا کہ وہ اس نوٹس پر نظرثانی کرے ۔ انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ ان کے یہ ریمارکس کہ درست تناظر میں ریکارڈ نہیں کیا گیا ہے ۔ ان پر عائد پابندی کو بعد ازاں ہٹالیا گیا تھا ۔
مظفر نگر فسادات : ایس آئی ٹی کو
45 دن مہلت
مظفر نگر ۔ 10 ستمبر (سیاست ڈاٹ کام) مظفر نگر فسادات کی تحقیقات کرنے والی ایس آئی ٹی کو انسپکٹر جنرل میرٹھ زون نے ہدایت دی ہے کہ تحقیقات اندرون 45 دن مکمل کرلی جائیں۔ آئی جی پی الوک شرما نے کہا کہ ملزموں کے خلاف جنہوں نے عدالت میں خودسپردگی نہیں کی ہے، قانون تعزیرات ہند دفعہ 172 کے تحت کی جائے۔ ایس آئی ٹی عہدیداروں کے کل شام منعقدہ اجلاس میں آئی جی پی نے فسادات کے ملزمین کی گرفتاری میں تاخیر پر فکرمندی ظاہر کی۔ ایڈیشنل ایس پی، ایس آئی ٹی منوج جھا نے کہا کہ صرف 131 مقدمات میں تحقیقات زیرالتواء ہیں۔
1500 ملزمین فسادات میں ملوث تھے، جبکہ 800 سے زیادہ گرفتار کئے جاچکے ہیں اور باقی مفرور ہیں۔ 58 پولیس انسپکٹرس اور سب انسپکٹرس اور دو ایڈیشنل ایس پیز فسادات کی تحقیقات کیلئے تعینات کئے گئے ہیں۔ مختلف مقدمات میں جو فسادات سے متعلق تھے ، 3,094 افراد کو بے قصور قرار دیا گیا ہے۔