مظفرنگر فسادات مقدمات سے دستبرداری کی تائید

لکھنو۔5جنوری ( سیاست ڈاٹ کام ) سماج وادی پارٹی نے مظفرنگر فسادات میں ملزمین کے خلاف مقدمہ کی دستبرداری کی تائید کی اور کہا کہ وہ متاثرین کو انصاف دلانے کی کوشش کررہی ہے ۔ کابینی وزیر راجندر چودھری نے حکومت کے موقف کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ پارٹی نے اپنے منشور میں دہشت گردی اور دیگر الزامات کے تحت گرفتار بے قصور نوجوانو ں کے خلاف مقدمات سے دستبرداری کا وعدہ کیا تھا ۔ مظفر نگر فسادات میں مسلمانوں کے خلاف مقدمات سے دستبرداری کے بارے میں پوچھے جانے پر انہوں نے راست جواب دینے سے گریز کیا اورکہا کہ مظفرنگر میں جو کچھ ہوا وہ غلط ہوا ۔ ہماری حکومت جہاں تک ہوسکے متاثرین کو انصاف پہنچانے کی کوشش کررہی ہے ۔ قبل ازیں ریاستی حکومت نے کہا تھا کہ وہ مظفرنگر فسادات کے دوران اشتعال انگیز تقاریر کے ذریعہ تشدد کیلئے اکسانے کے الزام میں جن مسلم قائدین کے خلاف مقدمات درج کئے گئے ہیں ان سے دستبرداری پر غور کررہی ہے ۔ چیف منسٹر اکھلیش یادو کی سیکیورٹی میں کمی کے تعلق سے پوچھے جانے پر انہوں نے کہاکہ سماج وادی پارٹی سادگی پر یقین رکھتی ہے اور وہ کسی کی تقلید نہیں کررہی ہے۔ اکھلیش یادو کے سیکیورٹی قافلے میں شامل گاڑیوں کی تعداد کو 10سے کم کر کے 4کردیا گیا ہے ۔ اس کے علاوہ ٹریفک تحدیدات بھی ختم کردی گئی ہے ۔

مظفرنگر فسادات کے ملزمین کی جائیدادوں کی ضبطی کے اقدامات
مظفرنگر۔ 5؍جنوری (سیاست ڈاٹ کام)۔ مظفرنگر کے فسادات کے دوران ایک قتل مقدمہ کے دو مفرور ملزمین کی جائیدادوں کی ضبطی کے اقدامات کا آغاز کردیا گیا ہے۔ چیف جوڈیشیل مجسٹریٹ نریندر کمار نے پولیس کی درخواست پر دو مفرور ملزمین کپل اور مِنٹو کی جائیدادیں ضبط کرنے کا قانون تعزیرات ہند کی دفعہ 83 کے تحت حکم جاری کردیا۔ دونوں ملزمین مکندپور دیہات میں قتل کی واردات میں ملوث ہونے کے بعد سے فرار ہیں۔ ایک شخص روزالدین کو گولی مارکر کردیا گیا تھا جبکہ اس کا بھانجہ ارشد زخمی ہوا تھا جب کہ فسادی اس دیہات میں پناہ لینے آئے تھے۔ انھوں نے ان دونوں پر گولیاں چلائی تھیں۔ پولیس نے کپل، منٹو، گورو، نکھل، بھولا اور سمیت کے خلاف مقدمہ درج کرلیا اور تحقیقات کے بعد پتہ چلا کہ تمام ملزمین قتل کی واردات میں ملوث ہیں۔ ایس آئی ٹی نے پولیس کو ان کی گرفتاری کی ہدایت دی۔ کپل اور منٹو فرار ہیں، دیگر 3 ملزمین کو گرفتار کرلیا گیا جبکہ ایک ملزم نے خود سپردگی کرلی۔