مشرق وسطیٰ میں امریکی امن کوششوں کو سعودی حمایت : کیری

ریاض ؍ یروشلم ، 6 جنوری (سیاست ڈاٹ کام) امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے کہا کہ سعودی عرب نے مشرق وسطیٰ کیلئے امریکی امن مذاکراتی عمل کی تائید کر دی ہے۔ انہوں نے یہ عندیہ بھی دیا ہے کہ مجوزہ جنیوا ٹو کانفرنس میں ایران غالباً کوئی کردار اداکر سکتا ہے۔ فرانسیسی خبر رساں ادارہ اے ایف پی نے امریکی وزیر خارجہ کے حوالے سے بتایا ہے کہ سعودی عرب نے اسرائیلی ۔فلسطینی امن مساعی کیلئے جاری امریکی کوششوں کیلئے اپنی حمایت کا اظہار کر دیا ہے۔ اپنے دسویں دورۂ مشرق وسطیٰ کے چوتھے روز امریکی وزیر خارجہ نے خبردار کیا کہ اگرچہ امن مساعی کیلئے ان کی کوششیں ابھی تک کارگر ہوتی نظر آ رہی ہیں لیکن یہ ناکام بھی ہو سکتی ہیں۔ کیری نے اتوار کو اردنی اور سعودی حکام سے اپنی ملاقاتوں میں مشرق وسطیٰ میں قیام امن کیلئے اپنے منصوبوں پرروشنی ڈالی۔

پہلے انہوں نے اَمان میں اردن کے شاہ عبداللہ ثانی اور وزیر خارجہ ناصر جودہ سے ملاقات کی اور بعدازاں وہ اردن سے سعودی عرب پہنچے جہاں وہ شاہ عبداللہ سے ملے۔ کیری اور شاہ عبداللہ کی یہ ملاقات تین گھنٹے جاری رہی۔ بعدازں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیری نے کہا کہ ملاقات انتہائی تعمیری رہی۔ کیری نے کہا، ’’آج، عزت مآب (شاہ عبداللہ) نے نہ صرف ہماری حوصلہ افزائی کی بلکہ مشرق وسطیٰ میں قیام امن کیلئے ہماری کوششوں کی حمایت بھی کی۔ مجھے یقین ہے کہ آئندہ دنوں میں ہم کامیاب رہیں گے۔‘‘ انہوں نے کہا کہ اسرائیل اور فلسطینی اتھارٹی کے مابین اختلافات کو ختم کرنے سے علاقائی سطح پر بہتری پیدا ہو گی۔ سعودی وزیر خارجہ سعود الفیصل نے بھی کہا کہ کیری اور شاہ عبداللہ کے مابین ملاقات انتہائی شاندار رہی۔ کیری سعودی عرب کے دورے کے بعد اتوار کی شب دوبارہ اسرائیل پہنچے تو انہوں نے کہا، ’’میں آپ کو اس بات کی ضمانت دیتا ہوں کہ صدر براک اوباما اور میں بذات خود پرعزم ہوں کہ ہم جو منصوبے پیش کر رہے ہیں، وہ منصفانہ اور متوازن ہیں۔ ان سے علاقائی سطح پر سکیورٹی کے معاملات میں بہتری پیدا ہوگی۔‘‘

شامی تنازعے کے حل کیلئے ایران کا ممکنہ کردار
امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے یروشلم میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ شامی بحران کے حل اور وہاں قیام امن کیلئے 22 جنوری کو منعقد کی جارہی جنیوا ٹو کانفرنس میں شاید ایران بھی کچھ کردار ادا کر سکتا ہے۔ پہلی مرتبہ ہے کہ واشنگٹن حکومت کی طرف سے شامی بحران کیلئے جاری عالمی کوششوں میں ایران کوبالواسطہ شامل کرنے کا عندیہ دیا گیا ہے۔ قبل ازیں امریکہ، روس اور دیگر ممالک کے ایسے منصوبہ جات کو مسترد کرتا رہا تھا کہ شام میں قیام امن کیلئے ایران کی مدد بھی لینا چاہئے۔ کیری نے کہا کہ اگر ایران مددگار ثابت ہوتا ہے تو یہ خوشی کی بات ہو گی۔ انھوں نے کہا کہ جنیوا ٹو کانفرنس میں ایران کی براہ راست شرکت کا فیصلہ اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل بان کی مون نے کرنا ہے اور اس سلسلے میں تہران حکومت کی نیت کا بھی عمل دخل ہو گا۔ تاہم انہوں نے کہا کہ ایران کو جنیوا ٹو کانفرنس میں باقاعدہ طور پر شامل نہیں کرنا چاہئے۔ امریکی وزیر خارجہ نے مزید کہا، ’’ جیسا کہ ایران جانتا ہے کہ اس کو اپنے جوہری پروگرام کے سلسلے میں کیا کرنا ہے اور اسی طرح وہ یہ بھی جانتا ہے کہ جنیوا ٹو کانفرنس کیلئے اسے کیا کرنا چاہئے‘‘۔ کیری نے کہا کہ ایران کو آگے بڑھنا چاہئے اور عالمی برداری کے ساتھ مل کر وہ کچھ کرنا چاہئے، جسے پایہ تکمیل تک پہنچانے کیلئے وہ پر عزم ہے۔ جون 2012ء میں شام پر ایک کانفرنس کا اہتمام سوئٹزرلینڈ کے شہر جنیوا میں کیا گیا تھا۔