واشنگٹن ، 13 نومبر (سیاست ڈاٹ کام) امریکہ نے اسرائیل کی طرف سے مشرقی یروشلم میں مزید 200 یہودیوں کو گھر بنا کر دینے کے تازہ فیصلے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس طرح کے پے در پے اقدامات سے اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان ایک تصادم کی صورتحال پیدا ہو سکتی ہے جبکہ پچھلے کئی ہفتوں سے پہلے ہی مقبوضہ بیت المقدس میں کشیدگی پائی جاتی ہے۔ امریکی دفتر خارجہ کی ترجمان جین پاسکی نے اسرائیلی اعلان پر کہا ’’ ہمیں اس پر سخت تشویش ہے، یہ ایک غیر منصفانہ اعلان ہے جیسا کہ اقوام متحدہ اور بین الاقوامی برادری سمیت امریکہ کا موقف مشرقی یروشلم میں یہودی بستیوں کی تعمیر کے خلاف واضح طور پر موجود ہے‘‘۔ ترجمان نے کہا کہ یہودی بستیوں کی تعمیر کے یہ اعلانات پہلے سے موجود کشیدگی کو بڑھانے کا ذریعہ بنیں گے نہ کہ کشیدگی میں کمی کا باعث بن سکیں گے۔ اسرائیل نے یہ اعلان امریکی وزیر خارجہ جان کیری کے اردن پہنچنے سے محض چند گھنٹے پہلے کیا۔ اسرائیلی پولیس کی مسجد اقصیٰ پر حالیہ چڑھائی کے خلاف ردعمل ظاہر کرتے ہوئے اردن نے اسرائیل سے اپنا سفیر بلا لیا تھا۔ اس واقعے کے ایک ہفتے بعد کیری اردن کے دورے پر آئے ہیں۔
اسرائیل کی طرف سے غزہ پر مسلط کردہ حالیہ خونی جنگ کے بعد مغربی کنارے اور مشرقی یروشلم میں بھی اسرائیلی رویہ مسلسل جارحانہ ہے۔ اسرائیلی میونسپلٹی کے ترجمان نے چہارشنبہ کی شام ہی اعلان کیا تھا کہ اسرائیل 200 یہودیوں کو مشرقی یروشلم میں گھر دے گا۔ یہ علاقہ فلسطینی ہے، جس پر اسرائیل نے 1967 میں قبضہ کرلیا تھا۔ فلسطینی اور عالمی برادری اس پر اسرائیلی تعمیرات کو اسرائیل کا جارحانہ اقدام قرار دیتی ہے۔ دوسری جانب امریکی وزیر خارجہ نے اردن کے شاہ عبداللہ کے علاوہ اردن میں ہی فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس سے بھی یروشلم کی حالیہ دنوں میں کشیدہ صورتحال پر تبادلہ خیال کیا ہے۔ معلوم ہوا ہے کہ کیری کا اسرائیل جانے یا اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو سے ملاقات کا فی الحال کوئی ارادہ نہیں ہے۔ وہ جمعہ کو امارات میں سکیورٹی کانفرنس میں شریک ہوں گے۔