اسلام آباد، 12 جون (سیاست ڈاٹ کام) پاکستان کی ایک اعلیٰ عدالت سندھ ہائیکورٹ نے سابق صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کا ایگزٹ کنٹرول لسٹ ’ای سی ایل‘ سے نام نکالنے کے حوالے سے درخواست آج مشروط طور پر منظور کر لی ہے۔ ہائیکورٹ کے دو رکنی بنچ جسٹس محمد علی مظہر اور جسٹس شاہنواز طارق نے مختصر تحریری فیصلے میں حکم دیا ہے کہ پرویز مشرف کو بیرون ملک جانے کی اجازت ہو گی، تاہم وہ اس اجازت سے فوری طور پر استفادہ نہیں کر سکیں گے۔ انہیں اس عدالتی فیصلے کے مطابق حکومت یا دوسرے فریقین کی طرف سے 15 دن تک اپیل کے حق کا انتظار کرنا ہو گا۔ یہ اپیل حکومت یا کوئی دوسرا فریق سپریم کورٹ میں دائر کر سکے گا۔ اطلاعات کے مطابق جمعرات کو اس اہم درخواست کی سماعت ہوئی تو حکومتی وکیل یا نمائندہ عدالت میں موجود نہ تھا۔
البتہ مشرف کے وکلا بیرسٹر فروغ نسیم کی زیر قیادت موجود تھی۔ واضح رہے کہ مشروف جن پر مبینہ غداری کے مقدمے کے علاوہ ملک کی مختلف عدالتوں کئی دوسرے مقدمات بھی اِن دنوں زیر سماعت ہیں، اُن کا نام سپریم کورٹ کے 8 اپریل 2013 ء کو دیئے گئے ایک بالواسطہ حکم کی بنیاد پر وفاقی حکومت نے ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں شامل کر رکھا ہے۔ سندھ ہائیکورٹ نے کہا کہ اپنے حکم پرعمل در آمد کیلئے کسی حکومتی ادارے اور حکومت کی اجازت ضروری نہیں ہو گی۔ عدالت نے اپنے حکم میں غداری کیس کو دیکھنے والی خصوصی عدالت کے 31 مارچ 2014 ء کے ریمارکس کا حوالہ بھی دیا جس میں خصوصی عدالت نے کہا تھا، ’’ پرویز مشرف جہاں چاہے آ جا سکتے ہیں‘‘۔ تاہم سندھ ہائیکورٹ نے خود ہی اپنے آج کے حکم پر عمل درآمد کو 15 دنوں کیلئے موخر کر دیا ہے تاکہ وفاقی حکومت چاہے تو سپریم کورٹ میں اس بارے میں اپیل دائر کر لے۔ مشرف نے اپنی والدہ کی عیادت اور اپنے علاج کیلئے ملک سے باہر جانے اجازت مانگی تھی، جس کا حتمی فیصلہ ایک مرتبہ پھر سپریم کورٹ میں ہونے کا امکان ہے بشرطیکہ وفاقی حکومت اپیل دائر کرتی ہے۔ دریں اثناء ایک اور عدالت نے غازی عبدالرشید قتل کیس کے سلسلے میں سابق صدر کی استثنا کی درخواست مسترد کرتے ہوئے انہیں یکم جولائی کو طلب کر لیا ہے۔