شہر میں سیاسی مشاطہ گری سرگرم، مخالف تلنگانہ و حکومت کی حلیف جماعت حصول مفادات میں کامیاب
حیدرآباد۔/23 جون، ( سیاست نیوز) ’’مشاطہ‘‘ یہ لفظ سنتے ہی عام طور پر ازدواجی رشتوں کو طئے کرنے کیلئے جن افراد کی خدمات حاصل کی جاتی ہیں ان کا تصور ذہن میں آتا ہے۔ مشاطہ دراصل ایک پیشہ بن چکا ہے جس کے تحت وہ لڑکا اور لڑکی والوں کو اچھے رشتے، جوڑے گھوڑے، دھوم دھام سے شادی اور دیگر لالچ دے کر کسی طرح رشتہ طئے کرنے کی کوشش کرتے ہیں تاکہ مقررہ فیس کے علاوہ کمیشن دونوں طرف سے حاصل ہوجائے۔ ازدواجی رشتوں کو طئے کرنے والا مشاطہ کا کردار اب عملی سیاست میں داخل ہوچکا ہے۔ دیگر جماعتوں کے قائدین کو اچھے عہدے اور تابناک مستقبل کا لالچ دے کر انہیں دوسری جماعت میں شمولیت کے ذریعہ اپنے سیاسی مفادات کی تکمیل کرنے والے سیاسی مشاطہ ان دنوں شہر میں سرگرم ہوچکے ہیں۔ تلنگانہ ریاست کے قیام کی مخالفت کرنے والے ریاست کی تشکیل اور حکومت کے قیام کے بعد برسراقتدار پارٹی اور حکومت کی حلیف سے بڑھ کر مشاطہ گری میں مصروف ہوچکے ہیں۔ حیدرآباد سے تعلق رکھنے والے کانگریس کے سینئر قائد اور سابق وزیر ڈی ناگیندر نے توقع کے مطابق کانگریس سے استعفی دے کر ٹی آر ایس میں شمولیت اختیار کرلی۔ حیدرآباد سے ہی تعلق رکھنے والے ایک اور سابق وزیر ایم مکیش کسی بھی وقت کانگریس کو خیرباد کہتے ہوئے ٹی آر ایس میں شمولیت اختیار کرسکتے ہیں۔ ان دونوں کی شمولیت کو ہم اس لئے بھی توقع کے مطابق کہہ رہے ہیں کیونکہ گزشتہ ایک عرصہ سے برسراقتدار پارٹی کے حلقوں میں یہ اطلاعات گشت کررہی تھیں کہ شہر کے فلاں بھائی بہت جلد حیدرآباد برادرس (ناگیندر اور مکیش ) کو ٹی آر ایس میں شامل کردیں گے۔ بتایا جاتا ہے کہ چیف منسٹر کی ایماء پر اور شہر میں کانگریس کے بڑھتے اثر کو کم کرنے کیلئے سیاسی مشاطہ نے یہ منصوبہ تیار کیا۔ نہ صرف دونوں قائدین بلکہ ان کے حامی کئی دن سے کھلے عام یہ اعلان کررہے تھے کہ بہت جلد ’’ ناگیندر انا ‘‘ اور ’’ مکیش انا‘‘ ٹی آر ایس میں شامل ہوجائیں گے۔ حامیوں نے یہاں تک کہہ دیا کہ یہ سب کچھ فلاں بھائی کررہے ہیں جو حیدرآباد کے کن پارلیمنٹ ہیں۔ ان دونوں قائدین کو ٹی آر ایس میں شامل کرتے ہوئے دراصل اپنے مفادات کی تکمیل کا سامان کیا گیا۔
شہر میں ٹی آر ایس کے پاس کوئی مضبوط قائد نہیں۔ ریاستی وزیر سرینواس یادو سکندرآباد کے بعض علاقوں تک محدود ہیں جبکہ مجموعی طور پر گریٹر حیدرآباد پر کنٹرول کیلئے مضبوط قیادت نہیں۔ اس خلاء کو پُر کرنے میں سیاسی مشاطہ نے اہم رول ادا کیا اور کانگریس کے حیدرآباد برادرس کو تابناک سیاسی مستقبل کا لالچ دیتے ہوئے ٹی آر ایس میں شمولیت کیلئے آمادہ کرلیا۔ بتایا جاتا ہے کہ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے دونوں کی شمولیت کیلئے مذاکرات کا اختیار مشاطہ پر چھوڑ دیا تھا بالکل اسی طرح جس طرح رشتوں کو طئے کرنے میں بعض اُمور مشاطہ کی صوابدید پر چھوڑ دیئے جاتے ہیں۔ اگرچہ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ مذکورہ دونوں قائدین کو ان کی سرگرمیوں کے اعتبار سے پسند نہیں کرتے لیکن مشاطہ نے ان کی شمولیت سے پارٹی کے استحکام کا جو خواب دکھایا اس پر کے سی آر کو راضی ہونا پڑا۔ باوثوق ذرائع کے مطابق کے سی آر چاہتے ہیںکہ 2019 میں گریٹر حیدرآباد میں ٹی آر ایس اور اس کی حلیف مقامی جماعت کے علاوہ کسی اور کو قدم جمانے کا موقع نہ دیں۔ بی جے پی کے 5 ارکان اسمبلی گریٹر حیدرآباد کے حدود میں ہیں۔ ڈی ناگیندر کو سکندرآباد لوک سبھا حلقہ سے ٹی آر ایس امیدوار بنائے جانے کا امکان ہے جبکہ مکیش کو شمولیت کی صورت میں گوشہ محل اسمبلی حلقہ سے ٹکٹ دیا جاسکتا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ مکیش نے ان کے فرزند کو اسمبلی ٹکٹ دینے کی شرط رکھی ہے۔ الغرض دونوں قائدین نے اپنی اپنی شرائط سیاسی مشاطہ کے سامنے رکھ دیا تھا اور مشاطہ نے فریق ثانی سے شرائط کی منظوری حاصل کرلی۔ دراصل کانگریس کی بڑھتی مقبولیت اور گریٹر حیدرآباد میں تیزی سے استحکام سے برسراقتدار پارٹی اور اس کی حلیف جماعت دونوں پریشان ہیں۔ کانگریس 2019 میں بیک وقت دونوں جماعتوں کیلئے سخت مقابلہ دے سکتی ہے ایسے میں کانگریس کے دو اہم قائدین کو توڑ کر گریٹر حیدرآباد کے حدود میں اپنا کنٹرول برقرار رکھنے کی کوشش کی گئی ہے۔ کانگریس سے بھلے ہی دونوں قائدین کو توڑ لیا گیا لیکن بتایا جاتا ہے کہ بی جے پی سے اندرونی مفاہمت کو ترجیح دی گئی تاکہ بعض حلقوں میں ان کے امیدواروں کی کامیابی کی راہ ہموار کی جاسکے جس کے جواب میں بی جے پی‘ ٹی آر ایس اور شہر کی مقامی جماعت کے خلاف کمزور امیدوار میدان میں اُتارے گی۔ الغرض ’حیدرآباد برادرس‘ کا رشتہ کانگریس سے توڑ کر ٹی آر ایس سے جوڑ دیا گیا۔