عدلیہ کے متوازی نظام چلانے کی تردید ،علماء کا رد عمل
نئی دہلی 7 جولائی ( سیاست ڈاٹ کام ) علماء نے فتوی کی قانونی حیثیت نہ ہونے سپریم کورٹ کے فیصلہ پر شدید رد عمل کا اظہار کیا اور کہا کہ دستور نے انہیں مسلم پرسنل لاء کے تحت کام کرنے کی اجازت دی ہے ۔ مسلم پرسنل لاء بورڈ کے رکن ظفر یار جیلانی نے کہا کہ ہم عدالتی نظام کے متوازی کچھ نہیں کررہے ہیں اور ہم یہ بھی نہیں کہتے کہ قاضی کے فیصلے کے سب پابند ہیں۔ ہمارا مقصد صرف یہ ہے کہ دو فریقین میں باہمی رضا مندی سے شریعت کے مطابق یکسوئی کی جائے ۔ آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ رکن خالد رشیدفرنگی نے کہا کہ دستور کے تحت مسلمانوں کو یہ حق ہے کہ وہ مسلم پرسنل لاء کے تحت اپنے فیصلے کریں۔ ہندوستان کے دستور نے ہمیں مسلم پرسنل لاء کے تحت چلنے کا حق دیا ہے ۔ کسی کو بھی یہ بات پیش نظر رہنی چاہئے کہ شرعی اطلاق قانون 1937 میں یہ واضح طور پر کہا گیا ہے کہ دونوں فریقین مسلمان ہیں اور ان کا تعلق نکاح ،طلاق ،ظہار ، خلع اور مبارات سے ہو تو فیصلہ مسلم پرسنل لاء کی روشنی میں کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ عدالت کے فیصلہ کا تفصیلی مطالعہ کرنے کے بعد ہی تبصرہ کیا جاسکتا ہے ۔ صدر کل ہند امام ائمہ اسو سی ایشن مولانا محمد ساجد رشید نے کہا کہ سپریم کورٹ میں دائر کردہ درخواست خود غلط ہے کیونکہ یہ ایک مذہبی معاملہ ہے ۔ اگر کوئی شخص کسی مذہب کا ماننے والا ہو تو وہ اس کی تعلیمات پر عمل کرتا ہے ۔ اگر ایک مسلمان شریعت پر عمل نہ کریں تو حقیقی مسلمان نہیں ہوسکتا ۔ شیعہ عالم دین مولانا کلب جواد نے کہا کہ اگر شرعی عدالتوں کو قانونی موقف دیا جائے تو عدلیہ پر بوجھ کم ہوسکتا ہے ۔