مسلم نوجوان کو ملازمت فراہم کرنے سے معروف کمپنی کا اِنکار

ممبئی۔21 مئی (سیاست ڈاٹ کام) مذہبی امتیاز کے ایک بدترین واقعہ میں ایک نوجوان ایم بی اے گریجویٹ کو ہیروں کی درآمدات کرنے والی کمپنی نے محض اس لئے ملازمت فراہم کرنے سے انکار کردیا کیونکہ وہ ’’مسلمان‘‘ ہے۔ پولیس وسیع پیمانہ پر مذمت کے بعد متعلقہ کمپنی کے خلاف مقدمہ درج کرنے پر مجبور ہوگئی ۔ اس واقعہ پر قومی اقلیتی کمیشن نے اس کاروباری ادارے سے وضاحت طلب کی۔ اس واقعہ پر مرکز کی بی جے پی زیرقیادت حکومت نے بھی تنقید کی ہے اور کہا کہ مذہبی بنیادوں پر امتیازی سلوک کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔ مینجمنٹ گریجویٹ ذیشان علی خان نے 19 مئی کو ایک کمپنی میں اپنے کیریئر کے آغاز کے لئے درخواست دی تھی۔ ذیشان کے بموجب درخواست دینے کے 15 منٹ کے اندر اسے کمپنی سے جواب بھی موصول ہوا جس میں کہا گیا ہے کہ کمپنی صرف ’’غیرمسلم‘‘ امیدواروں کی خدمات حاصل کرتی ہے۔ کمپنی نے ذیشان کی درخواست کے جواب میں کہا کہ ’’آپ کی درخواست کے لئے شکریہ، ہمیں آپ کو مطلع کرتے ہوئے افسوس ہوتا ہے کہ ہم صرف غیرمسلم امیدواروں کی خدمات حاصل کرتے ہیں‘‘۔ ذیشان نے بتایا کہ وہ روزگار کا متلاشی تھا اور جب اسے ہرے کرشنا ایکسپورٹس پرائیویٹ لمیٹیڈ میں بھرتیوں سے متعلق اطلاع ملی تو اس نے سوچا کہ اپنے کیریئر کی شروعات کیلئے یہ ایک بہترین موقع ہے۔ اس نے 19 مئی کو شام 5:45 بجے اپنی درخواست پیش کی اور 15 منٹ کے اندر اسے جواب بھی موصول ہوا

جس میں کہا گیا ہے کہ کمپنی صرف غیرمسلم امیدواروں کی خدمات حاصل کرتی ہے۔ ذیشان نے بتایا کہ اس نے کمپنی کے جواب کا اسکرین شارٹ وصول کیا اسے فیس بُک پر پیش کردیا۔ ذیشان نے کہا کہ ایسے وقت میں جبکہ وزیراعظم نریندر مودی بیرونی ممالک کے دورہ کرکے انہیں ہندوستان میں سرمایہ کاری اور میک اِن انڈیا مہم کو آگے بڑھا رہے ہیں، ملک کے بڑے کاروباری ادارے امیدواروں کو ان کے مذہب کی بنیاد پر مسترد کررہے ہیں۔ سوشیل میڈیا میں اس واقعہ پر شدید برہمی کا اظہار کیا جارہا ہے جس کے بعد متعلقہ کمپنی نے ذیشان علی خاں کو ایک ای۔میل روانہ کیا جس میں اس بھیانک غلطی کیلئے کمپنی کے ایک ٹرینی (ایچ آر ٹیم) کو ذمہ دار قرار دیا اور کہا کہ اس ٹرینی کو فیصلہ سازی کا کوئی اختیار نہیں تھا۔

ہری کرشنا ایکسپورٹس پرائیویٹ لمیٹیڈ نے اپنے میل میں کہا کہ یہ ایک بھیانک غلطی تھی جو شخصی طور پر ہمارے ایک ٹرینی سے سرزد ہوئی جسے فیصلہ سازی کا کوئی اختیار نہیں تھا۔ کمپنی نے کہا کہ اس کے دفتر میں جملہ 61 ملازمین ہیں اور اس کی ایچ آر ٹیم میں ایک مسلم بھی شامل ہے۔ اس واقعہ کا سخت نوٹ لیتے ہوئے قومی اقلیتی کمیشن کے صدرنشین نسیم احمد نے کہا کہ کمیشن کو آج صبح ہی یہ شکایت موصول ہوئی ہے اور کمیشن نے اپنے مروجہ طریقہ کے مطابق معلومات حاصل کرکے متعلقہ کمپنی سے وضاحت طلب کرے گا۔ اسی وضاحت کی بنیاد پر آئندہ کے لائحہ عمل کو قطعیت دی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ اگر اس ادعا میں کوئی سچائی ہے تو یہ افسوسناک ہے اور اس کی تحقیقات ہونی چاہئے۔ اس تنازعہ میں ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے منسٹر آف اسٹیٹ اقلیتی اُمور مختار عباس نقوی نے کہا کہ کسی پر ذات، علاقہ یا مذہب کی اہمیت نہیں گھٹائی جاسکتی۔ مذہب کی بنیاد پر امتیاز کی ہمارے نظام اور دستور کے تحت اجازت نہیں دی جاسکتی۔ اگر یہ درست ہے کہ ذیشان کو صرف اس کے مذہب کی بنیاد پر ملازمت سے انکار کیا گیا تو وہ سمجھتے ہیں کہ یہ درست نہیں ہے۔