مسلم لڑکوں کے مقابلے مسلم لڑکیوں میں تعلیمی رجحان زیادہ

خانگی اسکولوں میں اردو کی تعلیم بھی ضروری ، محفل خواتین کے سالانہ جلسہ سے جناب زاہد علی خاں کا خطاب
حیدرآباد۔12مارچ( سیاست نیوز) مدیراعلی روزنامہ سیاست جناب زاہدعلی خان نے اُردو کو فروغ دینے کے لئے حکومتی سطح پر سنجیدہ اقدامات کو وقت کی اہم ضرورت قراردیا ۔ انہوں نے کہاکہ اُردو کو دوسری سرکاری زبان کا درجہ تو فراہم کیاگیا ہے ۔ انہوں نے کہاکہ اکثر یہ دیکھنے میںآیا ہے کہ خانگی اسکولوں میںاُردو کی تعلیم نہیںدی جاتی ہے ۔ انہوں نے مزیدکہاکہ جب اسکول میں داخلہ کے لئے والدین سے فارمس حاصل کئے جاتے ہیںتو اس میں مادری زبان کا ایک زمرہ بھی شامل کیاجانا چاہئے ۔ جناب زاہدعلی خان نے کہاکہ اور اُردو جس اسٹوڈنٹ کی مادری زبان ہے اس کے لئے مذکورہ اسکول میں اُردو کا اایک مضمون پڑھایاجانا چاہئے تاکہ وہ اسٹوڈنٹ اپنی مادری زبان سے محروم نہ رہ سکے۔ محفل خواتین کے زیراہتمام اُردو حال حمایت نگر میںمنعقدہ سالانہ جلسہ اور سالانہ میگزین کی رسم اجرائی تقریب سے صدراتی خطاب کے دوران جناب زاہدعلی خان نے کہاکہ حکومت کو چاہئے کہ وہ ایسے خانگی اور سرکاری اسکولوں میںجہا ں پر اُردو ایک مضمون کے طور پر بھی نہیںپڑھائی جاتی انہیںہدایت دے کہ کم سے کم اُردو کا ایک مضمون پڑھائیں۔ پروفیسر ایس اے شکور سکریٹری اُردو اکیڈیمی ‘ پروفیسر اشرف رفیع سابق صدر شعبہ اُردو جامعہ عثمانیہ ‘ ،ڈکٹر مصطفی کمال‘ پروفیسر بیگ احساس نے مہمان خصوصی کے طور پر اس تقریب میں شرکت کی جبکہ سالانہ میگزین کی رسم اجرائی چیرمن اُردو اکیڈیمی مولانارحیم الدین انصاری کے ہاتھوں عمل میں آئی ۔ بعدازاں شام غزل کا بھی پروگرام منعقد کیاگیا۔ نظامت کے فرائض محترمہ تسنیم جوہر نے انجام دئے۔ سلسلہ خطا ب کو جاری رکھتے ہوئے جنا ب زاہدعلی خان نے کہاکہ عابد علی خان ایجوکیشنل ٹرسٹ کی جانب سے منعقد کئے جانے والے اُدو دانی ‘زبان دانی ‘ انشا کے امتحانات میںشرکت کرنے والوں کی تعداد میں ہر سال اضافہ ہوتا جارہا ہے ۔ انہوں نے کہاکہ اس سال ریاست بھر سے ساٹھ ہزار لوگوں نے ان امتحانات میںحصہ لیاجن میں غیر مسلم بردران وطن بھی شامل ہیں۔ جناب زاہدعلی خان نے مزیدکہاکہ رضاکارانہ طور پر اُردو کے فروغ کے لئے کوششیں کی جارہی ہیں مگر اس میںکامیابی اس وقت تک نہیںملتی جب تک حکومت اُردو کی ترقی کے لئے سنجیدہ اقدامات نہیںاٹھاتی ہے۔ جناب زاہدعلی خان نے مسلم لڑکیوں اور لڑکوں کے درمیان بڑھتی تعلیمی دوریوں پر تشویش کا اظہار کیا او رکہاکہ مسلمان لڑکیوں تعلیم کے میدان میںاپنا لواہا منورہی ہیں مگر ان کے مقابلے میںلڑکوںکے اندر تعلیمی رحجان کم ہورہا ہے ۔ انہوں نے کہاکہ یہ معاملہ مسلم سماج کا سب حساس مسئلہ ہے جس پر غور کرنے کی ضرورت ہے ۔ انہوں نے کہاکہ تعلیم یافتہ لڑکیوں کے لئے ان کی مناسبت کا رشتہ ملنا دشوار مرحلہ بن گیا ہے ۔انہوں نے والدین او رسرپرستوں پر زوردیاکہ وہ اپنے لڑکوں کو بھی اعلی تعلیم کی طرف راغب کریںاور معاشرے میںپیدا ہونے والے اس خلاء دور کرنے کاکام کریں۔ جنا ب زاہدعلی خان نے مسلم لڑکے او رلڑکیوں پر اسبات کا بھی زوردیا کہ وہ مسابقتی امتحانات میںحصہ لیں۔ انہوں نے کہاکہ سیول سرویس کے مسابقتی امتحانات میںشرکت او رکامیابی معاشرے میںایک نئے انقلاب کی ضمانت بن جائے گا۔ مولانا رحیم انصاری کی سالانہ میگزین پر رسم اجرائی پر مسرت کااظہار کیا۔ پروفیسر بیگ احساس نے کہاکہ قابل مبارکباد ہے محفل خواتین کو پچاس سال کا سفر طئے کرنے کے قریب ہے۔انہوں نے کہاکہ یہ بہت بڑا کام ہے اور اس کو آگے لے جانے کی ضرورت ہے۔پروفیسر ایس اے شکور نے اُردوادب کی بقاء کے لئے کی جانے والی کوششوں محفل خاتون کا رول قابل ستائش ہے۔