دوبئی /20 جون (سیاست ڈاٹ کام) ایران کے روحانی پیشوا آیت اللہ خامنہ ای کے دفتر کی جانب سے استعمال کئے جانے والے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر جو تحریریں پوسٹ کی گئی ہیں، اس کے مطابق خامنہ ای نے عراق کی صورت حال پر تبصرہ کرتے ہوئے مسلمانوں کو مشورہ دیا کہ وہ اسلام دشمن طاقتوں سے چوکنا رہیں۔ عراق میں بدامنی ظاہر کرکے یہ طاقتیں مسلم دنیا کو جنگ کی آگ میں جھونک دینا چاہتی ہیں۔ ٹوئٹر پر انگریزی میں پوسٹ کئے گئے پیام میں کہا گیا ہے کہ یہ طاقتیں عراق کے انتہا پسندوں اور فرقوں کے درمیان دشمنی پیدا کرنا چاہتی ہیں، جن کا مقصد اسلام دشمن طاقتوں کی سازشوں کو بروئے کار لانا ہے۔ عام طورپر ایرانی قائدین عالم اسلام میں ہونے والی تبدیلیوں اور جنگ و تشدد کے واقعات کے لئے امریکہ، اس کے مغربی حلیفوں اور اسرائیل کو نشانہ بناتے ہیں۔ اس پیام میں تکفیری انتہا پسند لیڈروں کا حوالہ دیا گیا ہے۔ یہ تکفیری انتہا پسند نہ صرف بے قصور انسانوں کے قاتل ہیں، بلکہ ان کی خطرناک کارروائیاں بہت بڑا جرم اور گناہ ہیں۔ مسلم دنیا کو ان سازشی طاقتوں سے ہوشیار رہنا چاہئے،
جو جنگ کی آگ بھڑکاکر اس میں تمام مسلم اقوام کو جھونکنا چاہتی ہیں۔ اس دوران عراق کے ایک عالم دین نے تمام پارٹیوں پر زور دیا ہے کہ وہ انتہا پسندوں کو شکست دینے کے لئے متحد ہو جائیں۔ وزیر اعظم نوری المالکی پر بھی اندرون ملک اور خارجی طورپر دباؤ بڑھ رہا ہے کہ وہ انتہا پسندوں کا خاتمہ کرنے سخت اقدام کریں۔ صدر امریکہ بارک اوباما کو عراق پر بمباری کرنے کے لئے وزیر اعظم نوری المالکی کی اپیل کا غلط اثر پیدا ہوا ہے کہ عراق کے لیڈر نے اپنی کمزوری کا ثبوت دیا ہے۔ عراق کے آیت اللہ علی السیستانی نے عراقیوں پر زور دیا ہے کہ وہ شورش پسندوں کے خلاف متحد ہو جائیں۔ اگر ان کو شکست نہیں دی گئی اور عراق سے نکال باہر نہیں کیا گیا تو کل پچھتانا پڑے گا۔