مسلم تحفظات کی فراہمی میں کے سی آر حکومت سنجیدہ

کانگریس نے اقلیتوں کو ووٹ بینک کے طور پر استعمال کیا، ٹی آر ایس ارکان مقننہ کی پریس کانفرنس
حیدرآباد ۔ 19 ۔ جون (سیاست نیوز) ریاست تلنگانہ کے مفادات کے تحفظ اور مرکز سے فنڈس کے حصول کے سلسلہ میں چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ جدوجہد کر رہے ہیں۔ آندھراپردیش تنظیم جدید قانون کے تحت تلنگانہ کو حاصل ہونے والے فنڈس اور دیگر سہولتوں کے سلسلہ میں کسی مفاہمت کے بغیر مرکز سے جدوجہد کی جارہی ہے۔ ٹی آر ایس کے ارکان مقننہ کے پربھاکر اور راملو نائک نے آج میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے مرکزی حکومت سے ٹی آر ایس کی خفیہ مفاہمت سے متعلق صدر پردیش کانگریس اتم کمار ریڈی کے الزامات کو مسترد کردیا ۔ انہوں نے کہا کہ جس طرح تلنگانہ ریاست کی تشکیل کیلئے جدوجہد کی گئی ، اسی طرح ریاست کے مفادات کی تکمیل اور ریاست کے حصے کو حاصل کرنے کیلئے مساعی جاری ہے۔ چیف منسٹر نے وزیراعظم نریندر مودی سے اپنی حالیہ ملاقات کے دوران شدت کے ساتھ مطالبات کو پیش کیا۔ نیتی آیوگ کے اجلاس میں بھی چیف منسٹر نے ریاست کے حقوق کی جانب توجہ مبذول کرائی۔ اتم کمار ریڈی کی جانب سے چیف منسٹر پر کی گئی تنقیدوں کو مسترد کرتے ہوئے ارکان مقننہ نے کہا کہ خفیہ معاہدہ کرنا اور صارفوں کے ذریعہ ترقی اور فلاحی اقدامات میں رکاوٹ پیدا کرنا کانگریس کی تاریخ ہے۔ کانگریس کلچر سے ٹی آر ایس بخوبی واقف ہے۔ کے سی آر نے تلنگانہ کے حصول کیلئے کوئی سمجھوتہ کئے بغیر اپنی جدوجہد کو جاری رکھا تھا، اسی طرح سنہرے تلنگانہ کی تشکیل کیلئے مرکز سے جدوجہد کی جارہی ہے۔ نیتی آیوگ کے اجلاس میں چیف منسٹر نے کالیشورم پراجکٹ کو مرکزی امداد کا مطالبہ کیا ۔ اس کے علاوہ کسانوں کے لئے شروع کردہ اسکیمات پر عمل آوری میں تعاون کی خواہش کی۔ انہوں نے بتایا کہ چیف منسٹر نے جب اجلاس میں زرعی شعبہ کی اسکیمات کا حوالہ دیا تو دیگر ریاستوں کے چیف منسٹرس کافی متاثر ہوئے۔ ارکان مقننہ نے الزام عائد کیا کہ اقتدار سے محرومی کے سبب بوکھلاہٹ کا شکار کانگریس قائدین نچلی سطح کی سیاست کر رہے ہیں اور حکومت پر بے بنیاد الزامات عائد کئے جارہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اتم کمار ریڈی کو خود ان کی پارٹی قائدین کا مکمل تعاون حاصل نہیں ہے لیکن وہ حکومت پر تنقید کرنے سے باز نہیں آرہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تنظیم جدید قانون کے امور کے علاوہ مسلمانوں اور درج فہرست قبائل کے تحفظات کے حصول میں حکومت کو کامیابی ہوگی۔ کانگریس دور حکومت میں اقلیتوں کو صرف ووٹ بینک کے طور پر استعمال کیا گیا اور ان کی ترقی نظر انداز کردی گئی ۔ یو پی دور حکومت میں مرکزی وزیر کی حیثیت سے کے سی آر نے سچر کمیٹی رپورٹ پر عمل آوری کیلئے حکومت پر دباؤ بنایا تھا۔تلنگانہ ریاست کی تشکیل کے بعد اسمبلی کے دونوں ایوانوں میں مسلمانوں کو 12 فیصد تحفظات فراہم کرنے کا بل منظور کرتے ہوئے مرکز کو روانہ کیا گیا ، جس سے حکومت کی سنجیدگی کا پتہ چلتا ہے۔ کانگریس قائدین کو حکومت کی سنجیدگی پر سوال کرنے کا حق حاصل نہیں ہے۔ پربھاکر نے کہا کہ کانگریس اور بی جے پی نے ملک کو نقصان پہنچایا ہے۔ انہوں نے بی جے پی کے ساتھ ٹی آر ایس کی کسی بھی مفاہمت کے امکان کو مسترد کردیا ۔کانگریس پارٹی کا شمار مخالف ترقی پارٹی کی حیثیت سے ہوتا ہے اور عوام اسے اقتدار حوالے نہیں کریں گے۔ رکن کونسل راملو نائک نے کہا کہ 2024 ء تک گاندھی بھون کو قفل پڑ جائے گا کیونکہ تلنگانہ کے عوام نے کانگریس کو مسترد کردیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس پارٹی گریجن طبقات میں پھوٹ پیدا کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ جب تک وہ اقتدار میں رہی مرکز اور ریاست میں گریجنوں کی ترقی کو فراموش کردیا گیا لیکن آج جھوٹی ہمدردی کا مظاہرہ کیا جارہا ہے۔