ممبئی ۔ /10 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) مسلمانوں کو پانچ فیصد تحفظات ختم کرنے بی جے پی ۔ شیوسینا حکومت کے فیصلے کے خلاف مہاراشٹرا میں اپوزیشن جماعتوں نے متحد ہوکر آج اسمبلی کے باہر احتجاجی مظاہرہ کیا اور حکومت کے اس حکم نامے کی نقولات نذرآتش کی ۔ کانگریس ، این سی پی اور ایم آئی ایم کے قائدین ایوان کے باہر جمع ہوگئے اور نعرے بازی کرتے ہوئے فرنویس حکومت پر مخالف مسلمان ہونے کا الزام عائد کیا ۔ انہوں نے حال ہی میں جاری کردہ سرکاری قرارداد کی نقولات نذر آتش کیں جو متعلقہ آرڈیننس کی منسوخی سے متعلق ہیں ۔ گزشتہ سال اسمبلی انتخابات سے قبل پیشرو کانگریس ۔ این سی پی حکومت نے آرڈیننس جاری کرتے ہوئے مسلمانوں کو تعلیم اور روزگار میں پانچ فیصد تحفظات فراہم کئے تھے ۔ پیشرو حکومت نے معاشی پسماندگی کی بنیاد پر تحفظات فراہم کرنے کا فیصلہ کیا تھا اور اسے ہائیکورٹ کی بھی منظوری حاصل تھی ۔ اس کے باوجود موجودہ حکومت نے اس فیصلے کو منسوخ کیا ہے ۔ این سی پی رکن اسمبلی جیتندر اوہد نے اس فیصلے کو غیردستوری قرار دیا ۔ سابق وزیر اقلیتی امور و کانگریس لیڈر محمد عارف نسیم خان نے کہا کہ اقلیتوں کے ساتھ کی جارہی ناانصافی کے خلاف اپوزیشن کا یہ احتجاج جاری رہے گا ۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس نے کئی کمیٹیوں کی سفارشات کی بنیاد پر یہ فیصلہ کیا تھا ۔ کیونکہ مسلمانوں کیلئے تحفظات ناگزیر ہوگئے تھے ۔