وزیراعظم سے دو ملاقاتیں تحفظات کا تذکرہ نہیں، اپوزیشن بیان بازی کے بجائے میدان ِ عمل میں آئے
حیدرآباد ۔ 18 ۔جون (سیاست نیوز) حکومت سے کسی بھی مطالبہ کی تکمیل کیلئے اپوزیشن کا متحد اور مضبوط ہونا ضروری ہے۔ اگر حکومت نے عوام سے کوئی وعدہ کیا ہوا اور چار برس کے بعد بھی وعدہ کی تکمیل نہیں کی گئی تو اسے اپوزیشن کی ناکامی تصور کیا جائے گا۔ عوام سے کئے گئے وعدوں کی تکمیل کو یقینی بنانا اپوزیشن کا کام ہے اور تلنگانہ میں مضبوط اپوزیشن کے باوجود عوام کو درپیش کئی مسائل اور عوام سے کئے گئے کئی وعدوں کی تکمیل کے سلسلہ میں کوئی پیشرفت نہیں کی گئی جس کے باعث اپوزیشن کا رویہ عوام کی نظروں میں مشکوک ہوتا جارہا ہے۔ مسلمانوں کو 12 فیصد تحفظات کی فراہمی کا کے سی آر نے 2014 ء کی انتخابی مہم میں وعدہ کیا تھا۔ اقتدار کے اندرون چار ماہ تحفظات پر عمل آوری کا سنہرا خواب دکھایا گیا لیکن حکومت کے چار سال گزرنے کے باوجود یہ وعدہ محض انتخابی منشور کا حصہ ثابت ہوا ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ کسی بھی حکومت کیلئے تحفظات کے فیصد میں اضافہ کو یقینی بنانا کوئی مشکل نہیں، بشرطیکہ دستور اور قانون کے مطابق پیشرفت کی جائے۔ دستور ہند اور سپریم کورٹ کے فیصلہ کے اعتبار سے تحفظات کی مجموعی حد 50 فیصد کی کوئی شرط نہیں ہے۔ سپریم کورٹ نے حکومتوں کو اس بات کی اجازت دی کہ اگر بعض طبقات حقیقی معنوں میں تعلیمی اور معاشی طور پر پسماندہ ہیں تو حکومت ان کا جامع سروے کرتے ہوئے اعداد و شمار کی بنیاد پر انہیں تحفظات میں اضافہ کرسکتی ہے۔ اس اعتبار سے تلنگانہ حکومت کیلئے مسلمانوں کے موجودہ 4 فیصد تحفظات میں اضافہ کرنا کوئی مشکل نہیں ہے لیکن جہاں مسئلہ حکومت کی سنجیدگی کا ہے۔ اگر حکومت سنجیدہ ہو تو وہ صرف اسمبلی میں بل کی منظوری پر اکتفا کرنے کے بجائے سپریم کورٹ کے فیصلہ کی روشنی میں اضافی تحفظات فراہم کرسکتی ہے۔ گزشتہ چار برسوں میں چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے بارہا اس بات کا اعلان کیا کہ وہ مسلمانوں کے 12 فیصد تحفظات کو یقینی بنائیں گے۔ انہوں نے یہاں تک کہہ دیا کہ وزیراعظم نریندر مودی نے انہیں اضافی تحفظات کی مرکز سے منظوری کا تیقن دیا ہے۔ تلنگانہ حکومت کی جانب سے مسلم اور ایس ٹی طبقات کے تحفظات میں اضافہ سے متعلق بل کو مرکز نے غیر دستوری قرار دیتے ہوئے واپس کردیا لیکن کے سی آر حکومت اپنے وعدہ کے مطابق سپریم کورٹ سے رجوع ہونے میں ناکام ہوچکی ہے۔ گزشتہ ہفتہ کے سی آر کی دو مرتبہ وزیراعظم سے ملاقات ہوئی لیکن دونوں ملاقاتوں میں مسلم تحفظات کا مسئلہ زیر بحث نہیں آیا ۔ پہلی ملاقات میں کے سی آر نے ریاست کے 10 مختلف مسائل پر مکتوب حوالے کئے ۔ ان میں تحفظات سے متعلق کوئی مکتوب نہیں تھا۔ مسلمانوں میں حکومت سے ناراضگی کو محسوس کرتے ہوئے حکومت میں شامل بعض افراد نے میڈیا کے بعض گوشوں میں یہ رپورٹ شائع کرائی کہ چیف منسٹر نے مسلم تحفظات کے مسئلہ پر نمائندگی کی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ چیف منسٹر آفس نے اس کی توثیق نہیں کی جبکہ چیف منسٹر کو خوش کرنے کیلئے بعض افراد نے یہ جھوٹی خبر شائع کرائی ۔ کے سی آر کی وزیراعظم سے دوسری ملاقات نیتی آیوگ کے اجلاس میں ہوئی لیکن وہاں بھی کے سی آر تحفظات کے مسئلہ پر خاموش رہے۔ کرناٹک ، آندھراپردیش اور مغربی بنگال کے علاوہ بہار کے چیف منسٹر نے وزیراعظم سے ملاقات کرتے ہوئے اپنے زیر التواء مسائل کو پیش کیا۔ چیف منسٹر چاہتے تو وہ مسلم اور ایس ٹی تحفظات کی منظوری کی خواہش کرسکتے تھے۔ لیکن ایسا نہیں ہوا۔ اب جبکہ مسلمان حکومت کی سنجیدگی پر بھروسہ کرنے تیار نہیں ہے لہذا اپوزیشن کو اہم رول ادا کرنا ہوگا۔ مسلم تحفظات کے حق میں جب ریاست گیر سطح پر مہم چلائی گئی تو کانگریس کے علاوہ تلگو دیشم ، بائیں بازوں کی جماعتوں اور دیگر جماعتوں نے تحفظات کی تائید کی تھی۔ اب جبکہ چیف منسٹر نے عدم دلچسپی کا واضح ثبوت پیش کردیا ہے، لہذا اپوزیشن کو چاہئے کہ وہ مسلمانوں اور درج فہرست قبائل کو ان کا حق دلانے کیلئے میدان میں آئے۔ تحفظات کے حق میں صرف بیان بازی سے کچھ نہیں ہوگا۔ کانگریس اور دیگر اپوزیشن جماعتوں کو متحدہ طور پر ایجی ٹیشن کا آغاز کرنا چاہئے ۔ اپوزیشن کے مشترکہ وفد کو چیف منسٹر سے نمائندگی کرنی چاہئے یا پھر انہیں چیف منسٹر کی سرکاری رہائش گاہ پرگتی بھون کے روبرو خود کو گرفتاری کیلئے پیش کرنا چاہئے۔ صرف بیان بازی کے ذریعہ مسلمانوں اور ایس ٹی طبقہ کی ہمدردی حاصل نہیں کی جاسکتی۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ برسراقتدار پارٹی کی طرح اپوزیشن بھی تحفظات کو محض انتخابی موضوع کی طرح استعمال کر رہی ہے ؟