مسلم اقلیتوں کو مسائل کے حل کیلئے خواب غفلت سے بیدار ہونے کا مشورہ

مرکزی و ریاستی حکومتوں کے رویہ پر تنقید ، جناب سید عزیز پاشاہ و دیگر کا گول میز کانفرنس سے خطاب
حیدرآباد /19 مارچ ( سیاست نیوز ) سینئیر قائد سی پی آئی و سابق رکن پارلیمان مسٹر سید عزیز پاشاہ نے ملک میں مسلم اقلیتوں کی معاشی تعلیمی ، سیاسی ، پسماندگی کے علاوہ مسلم اقلیتوں کو درپیش مسائل کے حل میں مرکزی و ریاستی حکومتوں کی جانب سے برتی جانے والی غفلت ، لاپرواہی اور ناانصافی پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے مسلم اقلیتوں کو مشورہ دیا کہ وہ خواب غفلت سے بیدار ہوجائیں اور اپنے دیرینہ حل طلب مسائل کی یکسوئی اور اپنے مطالبات کو منوانے کیلئے متحدہ طور پر ایک پلیٹ فارم پر جمع ہوکر جدوجہد کریں ۔آج وہ یہاں آل انڈیا مسلم میناریٹی آرگنائزیشن کے زیر اہتمام زیر عنوان ’’رنگناتھ مشرا کمیشن ، سچر کمیٹی سفارشات پر عمل آوری اور اوقافی جائیدادوں کا تحفظ ‘‘ پر زیر صدارت چیرمین آل انڈیا مسلم میناریٹی آرگنائزیشن مسٹر سید مختار حسین مدینہ ایجوکیشن سنٹر میں منعقدہ گول میز کانفرنس کو مخاطب تھے ۔ انہوں نے بتایا کہ مرکزی حکومت کی جانب سے ہر سال مسلم اقلیتوں کیلئے بجٹ مختص تو کردیا جاتا ہے لیکن منظورہ بجٹ کا صرف 15 تا 20 فیصد رقم کا ہی استعمال ہوا کرتا ہے ۔ مابقی منظورہ رقومات دوبارہ حکومت کے خزانے میں چلی جاتی ہے ۔ اس کی اہم وجہ یہ ہے کہ پلاننگ کمیشن سے فنڈز اقلیتوں کی فلاح و بہبود کیلئے اجراء کئے جاتے ہیں لیکن استفادہ کنندگان تک نہیں پہونچتے ۔ انہوں نے حکومت تلنگانہ کی جانب سے مسلم اقلیتوں کو 12 فیصد تحفظات کی فراہمی کیلئے قائم کردہ بیاک ورڈ کمیشن کو اپنی شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے حکومت پر زور دیا کہ وہ 12 فیصد تحفظات پر فوری عمل آوری اور اوقافی اراضیات کے تحفظ کیلئے ضروری اقدامات کرے ۔ انہوں نے مسلم اقلیتوں پر زور دیا کہ وہ صرف جلسوں کا انعقاد عمل میں لاتے ہوئے نشستاً گفتاً برخواستاً کی حد تک ہی محدود نہ رہیں بلکہ اپنے حقوق کے حصول کیلئے عملی اقدامات کریں ۔ اس موقع پر کانگریس قائد مسٹر خلیق الرحمن نے مسلم اقلیتوں کو درپیش مسائل کے حل میں مسلم قیادت کو ذمہ دار ٹھراتے ہوئے کہا کہ مسلمان سودے بازی کا شکار ہوگیا ہے ۔ جس کے نتیجہ میں مسلم اقلیتو ںکی ترقی میں مسائل پیدا ہو رہے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ مسلم اقلیتوں کو مانگنے سے نہیں بلکہ احتجاج اور جدوجہد کے ذریعہ اپنے حقوق کو حاصل کرنے کا وقت آگیا ہے ۔ اس موقع پر کانگریس قائد ڈاکٹر ایم اے انصاری نے مسلم اقلیتوں کی سیاسی ، سماجی ، معاشی اور تعلیمی پسماندگی پر اپنے گہرے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کانگریس کے دور حکومت میں مسلم اقلیتوں کی ترقی کی تاریخ دہرایا ۔ اس موقع پر مختلف سیاسی ، سماجی تنظیموں سے وابستہ قائدین مسرز محمد عبدالستار مجاہد ، اسمعیل الرب انصاری ، رحیم اللہ شریف ، محسن مجاہد ایم اے صدیقی ، پروفیسر انصاری ، محمد علی ، ایوب ، نعیم اللہ شریف ، محترمہ شیراز آمینہ خان کے علاوہ دیگر قائدین نے مخاطب کرتے ہوئے مسلم اقلیتوں کی معاشی ترقی ، سچر کمیٹی سفارشات پر عمل آوری اور اوقافی اراضیات کے تحفظ پر حکومت پر زور دیا ۔وائس چیرمین آرگنائزیشن مسٹر محمد نواب نے مہمانوں کا خیرمقدم کیا اور جنرل سکریٹری سید اعجاز حسین نے شکریہ ادا کیا ۔