مغلیہ دورحکومت میں ہندوستانی معیشت کو عالمی سطح پر چوتھا مقام، سال 1600 میں ملک کی جی ڈی پی فرانس سے اونچی
نئی دہلی 21 جون (سیاست ڈاٹ کام) ہندوستان پر حکومت کرنے والے مسلم بادشاہوں نے ملک کی ترقی میں اہم رول ادا کیا ہے۔ ان کی حکمرانی ہر لحاظ سے ملک کے لئے رحمت کا باعث تھی۔ جب مغلیہ بادشاہ بابر نے ابراہیم خان لودھی کو پانی پت میں سال 1526 ء میں شکست دی، بعدازاں اُس نے مغلیہ سلطنت کی بنیاد ڈالی، ہندوستانی معیشت نے سال 1600 ء میں فزوں تر ہونے کا آغاز کیا یہاں تک کہ ہندوستانی معیشت کو عالمی چوتھا مقام حاصل ہوا۔ بادشاہ اکبر کے دور حکومت میں ملک کا جی ڈی پی فرانس، جرمنی، جاپان، امریکہ سے زیادہ اونچا تھا۔ نیدرلینڈس کی یونیورسٹی آف گروننجن کے ڈاٹا کے مطابق اُس وقت کے ہندوستانی پورے عالم میں سب سے اہل ثروت (دولت مند) شمار ہوتے تھے۔ 16 اور 18 ویں صدی میں مغلیہ سلطنت سب سے زیادہ امیر ترین اور طاقتور سمجھی جاتی تھی۔ فرانسیسی سیاح فرانکوئس برنیر کے مطابق جو 17 ویں صدی میں ہندوستان آیا تھا، لکھا کہ ’’سونا اور چاندی دنیا کے ہر حصہ سے ہندوستان پہنچتا تھا‘‘۔ بادشاہ اکبر نے بہترین انتظامی صلاحیتوں کا مظاہرہ کرتے ہوئے تجارت (ٹریڈ اینڈ کامرس) کو فروغ دیا تھا۔ یہ ’’ایسٹ انڈیا کمپنی‘‘ تھی جس نے مغلیہ سلطنت سے تجارت کے معاملہ میں ان سے رعایتیں حاصل کی تھیں جس پر بعدازاں انھوں نے بدنیتی کرتے ہوئے تجارت پر کنٹرول حاصل کرلیا اور آہستہ آہستہ غیر محسوس طریقہ پر برباد کردیا۔ مغلوں نے انفراسٹرکچر پر دولت کا بڑا حصہ لگایا جس سے اُنھوں نے بہترین، خوبصورت یادگار شاہکار عمارتیں بنوائیں جس سے نہ صرف انھیں بلکہ آج تک سیاحوں کی کثرت دیکھنے آتی ہے اور دنگ رہ جاتی ہے جس سے آج کی فقیری حکومت کو ناقابل اندازہ دولت حاصل ہوتی ہے۔ یہاں تک کہ وہ اُن پر آہک پاشی کروانے کے بھی قابل نہیں ہیں۔