حیدرآباد 11 فبروری (سیاست نیوز) تعلیم میں عدم مساوات و تعصب مسلمانوں کو تعلیم کے حصول سے دور رکھے ہوئے ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے، اِس سے کوئی انکار نہیں کرسکتا۔ ممتاز سماجی کارکن و ڈائرکٹر مرکز برائے مطالعات مساوات مسٹر ہرش مندر نے آج ’’حق تعلیم اور مسلم اطفال‘‘ کے مسائل کے عنوان سے مولانا آزاد نیشنل اُردو یونیورسٹی میں منعقدہ سمینار سے خطاب کے دوران اِن خیالات کا اظہار کیا۔ اُنھوں نے بتایا کہ سماجی ترقی میں مسلم اطفال کے کلیدی کردار کو نظرانداز کیا جانے لگا ہے جس کے سبب مسلمان احساس کمتری کا شکار ہوتے ہوئے تعلیمی میدان سے دوری اختیار کررہے ہیں۔ مسٹر ہرش مندر جوکہ سمینار میں کلیدی خطبہ دے رہے تھے، نے بتایا کہ مسلمان کم عمری میں ہی بچوں کو معمولی کاموں سے منسلک کرنے لگے ہیں اور وہ نوجوانی میں تعلیم سے دور کاروباری سرگرمیوں سے وابستہ ہورہے ہیں۔ اُنھوں نے بتایا کہ یہ نوجوان ملک کی معیشت کے استحکام میں اپنا بھی کردار ادا کررہے ہیں لیکن اِس کے باوجود وہ اعداد و شمار سے غائب ہیں۔ جس کی بنیادی وجہ پروفیشنل اداروں میں مسلمانوں کا کم تناسب ہے۔ اُنھوں نے بتایا کہ آئی آئی ٹی اور آئی آئی ایم میں صرف 1.4 فیصد مسلمان تعلیم حاصل کررہے ہیں جبکہ گریجویشن میں مسلمانوں کی خاصی تعداد ہے۔ مسٹر ہرش مندر نے متعصبانہ رویہ کی مثال دیتے ہوئے کہاکہ کشمیر میں کئی خواتین کے ساتھ بیک وقت ہندوستانی افواج اجتماعی عصمت ریزی کرتے ہیں لیکن اُن کے لئے آواز نہیں اُٹھائی جاتی جبکہ اجتماعی عصمت ریزی کا اگر کوئی واقعہ دہلی کی سڑک پر پیش آتا ہے تو اُس کے لئے ملک بھر میں احتجاج منظم کئے جاتے ہیں۔
اُنھوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کشمیر کے علاقہ شوپیان کے واقعات کا تذکرہ کرتے ہوئے کہاکہ اِن واقعات پر اختیار کردہ رویہ سے مسلمان یہ سوچنے پر مجبور ہورہے ہیں کہ واقعی اُن کے ساتھ ہندوستان میں دوسرے درجہ کے شہری کا رویہ اختیار کیا جارہا ہے۔ ہرش مندر نے بتایا کہ ملک کی سالمیت کے لئے ضروری ہے کہ متعصبانہ رویہ کا شکار ہورہے بچوں کو اعلیٰ تعلیم دلوانے کے اقدامات کئے جائیں۔ اُنھوں نے ایک نصابی کتاب کا حوالہ دیتے ہوئے کہاکہ حوالدار عبدالحمید جوکہ اپنی وفاداری اور بہادری کے سبب بعداز مرگ پرم ویر چکر حاصل کیا تھا اُس کا واقعہ ایک کتاب میں لکھا گیا ہے جس کی تحریر کچھ یوں ہے کہ ’’مسلمان ہونے کے باوجود حوالدار عبدالحمید نے حب الوطنی کا جذبہ تھا‘‘ اس طرح کی تحریریں مسلمانوں کو بحیثیت قوم مذہبی تعصب کا شکار بنا رہے ہیں۔ اِس ورکشاپ سے ڈاکٹر خواجہ محمد شاہد پرو وائس چانسلر مولانا آزاد نیشنل اُردو یونیورسٹی، جناب عابد رسول خان صدرنشین آندھراپردیش اقلیتی کمیشن، پروفیسر کانچا ایلیا کے علاوہ دیگر نے بھی مخاطب کیا۔ جناب ہرش مندر نے بتایا کہ ملک کی معاشی ترقی میں مسلمانوں کی حصہ داری کے لئے یہ ضروری ہے کہ وہ تعلیمی میدان میں ترقی کو یقینی بنانے میں دلچسپی کا مظاہرہ کریں۔ جناب عابد رسول خان نے اِس موقع پر اپنے خطاب کے دوران کہاکہ ملک میں مسلمانوں کی ترقی کے لئے متعدد اقدامات کئے جارہے ہیں لیکن کئی ریاستیں اِن اسکیمات کو نافذ کرنے میں ناکام ہورہی ہیں۔ اُنھوں نے بتایا کہ یہ بات درست ہے کہ مسلمانوں اور اُردو کو تعصبیت کا شکار بنایا جارہا ہے جوکہ مناسب نہیں ہے۔ اُنھوں نے بتایا کہ اُردو میڈیم اسکولوں کی خستہ حالت سے بھی کوئی انکار نہیں کرسکتا لیکن اِس کے باوجود اِن اسکولس میں غریب طلبہ کی خاصی تعداد تعلیم حاصل کررہی ہے۔
جناب عابد رسول خان نے بتایا کہ حکومت آندھراپردیش کی جانب سے اسکالرشپ اسکیم بہتر انداز میں چلائی جارہی ہے۔ اُنھوں نے اُردو میڈیم سے تعلق رکھنے والے یونانی کمپاؤنڈرس کی جائیدادوں پر عدم تقررات کے مسئلہ کو بھی تعصب کی علامت قرار دیتے ہوئے کہاکہ ہومیوپیتھی اور آیورویدک میں تقررات کا عمل مکمل کرلیا گیا جبکہ یونانی کی مخلوعہ جائیدادوں پر تقررات عمل میں نہیں آئے۔ جناب خواجہ شاہد نے اِس موقع پر اپنے خطاب کے دوران ورکشاپ کے انعقاد کے اغراض و مقاصد بیان کئے۔ اُنھوں نے بتایا کہ اِس پروگرام کا انعقاد مرکز برائے مطالعہ سماجی علیحدگی و شمولیت پالیسی اور مولانا آزاد نیشنل اُردو یونیورسٹی کے علاوہ سیو دی چلڈرن تنظیم کے اشتراک سے عمل میں لایا گیا ہے تاکہ مسلمانوں کو آئی ٹی آئی، پالی ٹکنک اور دیگر پیشہ وارانہ کورسیس سے منسلک کرنے کے علاوہ مسابقتی میدان میں اُنھیں لایا جائے۔ پروفیسر کانچا ایلیا نے اِس موقع پر اپنے خطاب کے دوران مسلمانوں اور دیگر پسماندہ طبقات کے درمیان نظر آرہے فرق کو پیش کرتے ہوئے کہاکہ ترک تعلیم کے رجحان میں مسلم بچوں کی تعداد بہت زیادہ ہے۔