لاؤڈ اسپیکر کا بھی استعمال کرنے کی ضرورت نہیں، مقامی افراد کو 90 فیصد کوٹہ دینے کامطالبہ
ممبئی ۔28 جولائی ۔( سیاست ڈاٹ کام ) تحفظات مسئلہ پر ایک مختلف منطق چھیڑتے ہوئے مہاراشٹرا نونرمان سینا کے صدر راج ٹھاکرے نے کہاکہ کوٹہ صرف انفرادی طورپر معاشی موقف کی بنیاد پر دیا جانا چاہئے، مذہبی خطوط پر نہیں ۔ مقامی افراد کو سرکاری ملازمتوں اور تعلیمی شعبہ میں اولین ترجیح دینی ہوگی ۔انھوں نے مقامی نوجوانوں پر زور دیاکہ وہ سیاسی پارٹیوں کے جھانسے میں نہ آئیں جو صرف شہریوں کے ووٹوں کو استعمال کرتے ہیں۔ راج ٹھاکرے پونے میں پارٹی ورکرس کی ایک ریالی سے خطاب کررہے تھے ۔ انھوں نے مسلمانوں پر زور دیا کہ وہ نماز گھروں میں ادا کریں سڑکوں پر نہیں ۔ انھوں نے یہ بھی سوال کیا کہ آخر مسلمانوں کو نماز ادا کرنے اور اذاں کے لئے لاؤڈ اسپیکر استعمال کرنے کی کیا ضرورت ہے وہ اپنی عبادت کا مظاہرہ نہ کریں کیوکہ ان کی وجہ سے دیگر شہریوں کو تکلیف ہوتی ہے ۔ نماز پڑھنا ہے تو گھر میں پڑھو راستہ کیوں بند کرتے ہو ۔ میں مہاراشٹرا اور ملک کے تمام مسلمانوں سے کہتا ہوں کہ وہ نماز اور اذاں کے لئے لاؤڈ اسپیکر کااستعمال نہ کرں۔عوام اپنی ذمہ داری سمجھیں ایسے کام نہ کریں جس سے ملک اور ریاست میں کسی قسم کے احتجاج یا تحریک کی صورتحال پیدا ہوجائے ۔ راج ٹھاکرے نے تحفظات کے بارے میں مزید کہا کہ کسی بھی طبقہ کیلئے علحدہ تحفظات کی ضرورت نہیں ہے ۔ اگر ریاستی حکومت میں 80 فیصد ملازمتیں ہیں تو یہ نوکریاں صرف مقامی افراد کو دی جائیں۔ تعلیمی اداروں میں بھی صرف مقامی افراد کو داخلہ دیا جائے ۔ سیاسی پارٹیاں صرف عوام کے جذبات سے کھلواڑ کرتی ہیں یہ عوام ہی ہیں جو ایسے تضادات کا شکار ہوتے ہیں۔ موجودہ حالات میں ہمارے بچے ہی ذات پات اور مذہب کے بارے میں سوچ رہے ہیں ۔ مختلف طبقات کے لوگ ایک دوسرے کو آنکھیں دکھانا بند کردیں۔ آج ریاست اور ملک کی ایسی صورتحال بنادی گئی ہے کہ اقتدار کے لئے سیاسی پارٹیاں عوام میں انتشار پیدا کررہی ہیں۔ راج ٹھاکرے نے نوجوانوں پر زور دیاکہ وہ اپنے قریبی ساتھیوں کو چوکس کریں ، انھیں الرٹ کریں کہ وہ سیاسی پارٹیوں کے جھانسے میں نہ آئیں، اگر 80 تا 90 فیصد تحفظات تعلیمی اداروں اور روزگار میں دیا جائے تو سب سے پہلے مقامی افراد کو ترجیح دی جائے ۔ آج کوئی بھی سیاسی پارٹی ریاست اور ملک کی حقیقی تصویر پیش نہیں کررہی ہے ۔ انھوں نے خارجیوں پر شدید تنقید کی اور کہا کہ غیرمراٹھی لوگ ریاست کو لوٹ رہے ہیں جبکہ مقامی افراد ذات پات اور مذہب کی بنیاد پر آپس میں متصادم ہیں۔ یاد رہے کہ قبل ازیں غیرمعروف اور بے سُرا گلوکار نے اپنے متنازعہ بیان میں ٹوئیٹر پر کہا تھا کہ اس کی نیند ، صبح کی (فجر) اذان کی وجہ سے کھل جاتی ہے اور ہمارے جمہوری ہندوستان میں جبری مذہبی تعلیمات کا نفاذ کب ختم ہوگا ۔ بعد ازاں ٹوئیٹر پر اُس نے وضاحت کی تھی کہ وہ صرف ’’لاؤڈ اسپیکر‘‘ کے استعمال کے خلاف ہے ۔
ہر ایک کو اپنی رائے کی آزادی ہے جس کا غلط استعمال نہ ہونا چاہئے ۔ ’’لاؤڈ اسپیکرس ، ضرورت نہیں ہیں ، اور نہ وہ کسی مذہب کا حصہ ہیں‘‘ ۔