حکومت تلنگانہ کی جانب سے کمیٹی تشکیل، اندرون 6 ماہ جامع رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت
حیدرآباد 3 مارچ (سیاست نیوز) ریاست تلنگانہ میں مسلمانوں کے معاشی، تعلیمی و سماجی موقف و حالات کا تفصیلی جائزہ لینے اور اندرون چھ ماہ حکومت کو جامع رپورٹ پیش کرنے کیلئے تلنگانہ حکومت نے ایک کمیٹی تشکیل دی ہے۔ اس سلسلہ میں آج رات دیر گئے احکامات جاری کئے۔ تفصیلات کے مطابق حکومت تلنگانہ کے قانون کمیشن آف انکوائری کے تحت ایک کمیٹی تشکیل دی گئی ہے۔ اس کمیٹی کی قیادت مسٹر جی سدھیر آئی اے ایس ریٹائرڈ (سابق اسپیشل چیف سکریٹری) کریں گے جبکہ ایک سینئر لیکچرر ریٹائرڈ جناب ایم اے باری کو کمیٹی کو کا رکن نامزد کرتے ہوئے بتایا گیا کہ ایک اور رکن کی اس کمیٹی کیلئے نامزدگی عمل میں لائی جائے گی۔ جاری کردہ جی او کے مطابق ریاست تلنگانہ میں مسلمانوں کے معاشی تعلیمی و سماجی موقف سے متعلق تفصیلی جائزہ لینے اور ان مسلمانوں کے حالات میں بہتری پیدا کرنے کیلئے کس نوعیت کے فلاح و بہبود پروگرامس و اسکیمات کو روبہ عمل لایا جانا چاہئے۔ اس سلسلہ میں تفصیلی سفارشات پر مبنی جامع رپورٹ حکومت کو اندرون چھ ماہ پیش کرنے کی ہدایت دی گئی۔ علاوہ ازیں غریب مسلمانوں کو تعلیمی و روزگار کے شعبہ میں تحفظات فراہم کرنے کیلئے بھی تفصیلی جائزہ لیتے ہوئے سفارشات پیش کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ مزید بتایا گیا کہ سرکاری و خانگی شعبہ میں مسلمانوں کی ملازمتوں کے فیصد کا بھی جائزہ لینے کی ہدایت دی گئی۔ تاکہ حکومت تلنگانہ مسلمانوں کی فلاح و بہبود کیلئے بہتر پالیسیاں و ترقیاتی پروگرامس مرتب کرسکے اور غریب مسلمانوں کی ہمہ جہتی ترقی کو یقینی بنانے کیلئے اقدامات کئے جاسکیں۔ اسی دوران ایسی ہی ایک کمیٹی تلنگانہ کے قبائیلی طبقات کے حالات کا جائزہ لینے کیلئے مسٹر چلپا آئی اے ایس ریٹائرڈ کی قیادت میں سہ رکنی کمیٹی تشکیل دی گئی ہے۔ دیگر دو ارکان میں مسٹر جگناتھ راؤ ریٹائرڈ آئی پی ایس اور ایچ کے ناگو ریٹائرڈ اڈیشنل کمشنر محکمہ لیبر شامل ہیں۔ اس کمیٹی کو بھی اندرون چھ ماہ رپورٹ حکومت کو پیش کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ یہ کمیٹی تلنگانہ میں مسلمانوں کے موقف اور بالخصوص اُن کی سماجی ، تعلیمی و معاشی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لے گی۔ اُنھیں تحفظات فراہم کرنے کیلئے سفارشات بھی پیش کی جاسکتی ہیں۔