مسلمانوں کے مسائل کی یکسوئی کے لیے عنقریب حکومت کو جامع رپورٹ

چیف منسٹر چندر شیکھر راؤ کو فلاحی اسکیمات پر عمل آوری میں خصوصی دلچسپی ، سکریٹری جناب احمد ندیم کا بیان
حیدرآباد۔/8جولائی، ( سیاست نیوز) تلنگانہ ریاست میں اقلیتوں کی ہمہ جہتی ترقی کے سلسلہ میں محکمہ کی جانب سے ایک جامع رپورٹ اسمبلی بجٹ اجلاس سے قبل پیش کردی جائے گی۔ اس رپورٹ میں مواضعات سے لیکر ریاستی سطح تک اقلیتوں کے مسائل کی یکسوئی کیلئے حکومت کو تجاویز پیش کی جائیں گی۔ اقلیتوں کی پسماندگی کے خاتمہ خاص طور پر تعلیمی ترقی کو یقینی بنانے حکومت کی توجہ مبذول کرائی جائے گی۔ سکریٹری اقلیتی بہبود جناب احمد ندیم ( آئی اے ایس ) نے آج ’’سیاست‘‘ سے بات چیت کرتے ہوئے انکشاف کیا کہ چیف منسٹر چندر شیکھر راؤ کی جانب سے کل طلب کردہ اعلیٰ سطحی ورکشاپ میں تمام محکمہ جات کو جو ہدایات جاری کی گئیں ان میں ایکشن پلان کی تیاری شامل ہے۔ بجٹ اجلاس سے قبل ہر محکمہ کو ایکشن پلان پیش کرنا ہوگا تاکہ ہر محکمہ کی ضرورت کے لحاظ سے بجٹ مختص کیا جاسکے۔جناب احمد ندیم جو سابق میں بھی چھ ماہ تک سکریٹری اقلیتی بہبود کی حیثیت سے خدمات انجام دے چکے ہیں وہ کمشنر ایکسائیز و پروہبیشن کے عہدہ پر بھی برقرار ہیں۔ جناب احمد ندیم نے بتایا کہ 12جولائی سے پنچایت کی سطح پر ایکشن پلان کی تیاری کا آغاز ہوگا۔پنچایتکے بعد منڈل اور ضلع سطح پر اقلیتوں کے مسائل کا جائزہ لیا جائے گا۔ بعد میں ریاستی سطح پر قطعی رپورٹ حکومت کو پیش کی جائے گی۔ جناب احمد ندیم نے بتایا کہ چیف منسٹر چندر شیکھر راؤ نے فلاحی اسکیمات پر عمل آوری میں خصوصی دلچسپی کا اظہار کیا ہے۔ اس اعتبار سے اقلیتوں اور دیگر کمزور طبقات کی ترقی آئندہ بجٹ میں حکومت کی ترجیحات میں شامل رہیں گی۔ توقع ہے کہ اگسٹ تک محکمہ اقلیتی بہبود بھی اپنی رپورٹ تیار کرلے گا۔ جناب احمد ندیم نے بتایا کہ جاریہ فلاحی اسکیمات کے علاوہ اقلیتوں کی ضرورت کے پیش نظر نئی اسکیمات کی بھی سفارش کی جاسکتی ہے۔ انہوں نے کہاکہ وہ تعلیمی ترقی پر توجہ مرکوز کریں گے کیونکہ تعلیمی پسماندگی کا خاتمہ معاشی پسماندگی کے خاتمہ میں اہم رول ادا کرے گا۔انہوں نے بتایا کہ نئے اسکولس کا قیام، ہاسٹلس اور اقامتی مدارس کی تعمیر پر توجہ دی جائے گی۔ محکمہ اقلیتی بہبود میں عہدیداروں اور اسٹاف کی کمی کو کارکردگی بہتر بنانے میں اہم رکاوٹ قرار دیتے ہوئے جناب احمد ندیم نے کہا کہ طویل عرصہ سے اسٹاف کی کمی شدت سے محسوس کی جارہی ہے اور اس کا اثر اسکیمات پر عمل آوری پر پڑ رہا ہے۔ تلنگانہ حکومت سے مناسب اسٹاف کے الاٹمنٹ کیلئے نہ صرف نمائندگی کی جائے گی بلکہ اقلیتی بہبود کمشنریٹ کو بھی مستحکم کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ دارالحکومت حیدرآباد کے علاوہ ضلع واری سطح پر اقلیتی بہبود کے مناسب اسٹاف کے تقرر کو یقینی بنایا جائے گا کیونکہ کوئی بھی محکمہ اسٹاف کے بغیر نامکمل ہوتا ہے۔ انہوں نے اس بات کا اشارہ دیا کہ 10اضلاع پر مشتمل تلنگانہ ریاست کے سبب عہدیداروں کو ایک سے زائد ذمہ داریاں دی جاسکتی ہیں۔ جناب احمد ندیم نے کہا کہ اسپیشل آفیسر وقف بورڈ اور کمشنر اقلیتی بہبود جیسے اہم عہدوں پر تقررات کی مساعی جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ سکریٹری اقلیتی بہبود چونکہ وقف بورڈ کے معاملات میں اپیلیٹ اتھاریٹی ہے لہذا سکریٹری کو اسپیشل آفیسر کی زائد ذمہ داری دیا جانا ممکن نہیں۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ اسپیشل آفیسر کی عدم موجودگی کے باعث وقف بورڈ کی کارکردگی متاثر ہوئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ وقف بورڈ اور حج کمیٹی کی تقسیم کا عمل شروع ہوچکا ہے اور توقع ہے کہ اندرون ایک ہفتہ مکمل کرلیا جائے گا۔ ان اداروں کی تقسیم کے سلسلہ میں قانونی پہلوؤں کا جائزہ لیا گیا اور بہت جلد احکامات جاری کئے جائیں گے۔ جناب احمد ندیم نے کہا کہ گذشتہ مالیاتی سال اقلیتی بہبود کے بجٹ کی آخری قسط کی عدم اجرائی کے سبب فیس ری ایمبرسمنٹ میں رکاوٹ پیدا ہوئی ہے، نئے بجٹ کی اجرائی کے بعد یہ مسئلہ حل ہوجائے گا۔ ایک سوال کے جواب میں جناب احمد ندیم نے کہا کہ وہ ریاستی سطح کی رپورٹ کی تیاری کے بعد ہر محکمہ کی کارکردگی کا انفرادی طور پر جائزہ لیں گے۔ خاص طور پر وقف بورڈ کی کارکردگی بہتر بنانا ان کی اولین ترجیح ہوگی جبکہ دیگر اقلیتی ادارے بہتر طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں۔