طلاق ثلاثہ قانون کا تذکرہ ‘ مرکزی وزیر برائے اقلیتی اُمور مختار عباس نقوی کا بیان
نئی دہلی ۔ 17جون ( سیاست ڈاٹ کام ) مرکزی وزیر برائے اقلیتی اُمور مختار عباس نقوی نے کہا کہ نریندر مودی حکومت کو مسلمانوں کے دل جیتنے کیلئے جن کے دماغوں اور دلوں میں گذشتہ 70سال کے دوران زہر بھرا گیا ہے ‘ دل جیتنے کیلئے بہت کچھ کرنا ہوگا ۔ نقوی نے کہا کہ بی جے پی حکومت کو مسلمانوں کو یاد دلانا ہوگا کہ حکومت نے ان کیلئے کئی ترقیاتی اسکیموں کا آغاز کیا ہے اور 2019ء کی انتخابی مہم میں ’طلاق ثلاثہ ‘ پر امتناع کا جو تیقن دیا گیا تھا اس کیلئے قانون تیار کیا گیا ہے ۔ مرکزی وزیر نے حال ہی میں مسلم خواتین کیلئے جو طلاق ثلاثہ سے متاثر ہوئی ہوں ایک افطار پارٹی کا اہتمام کیا تھا جس میں ایسی تمام خواتین نے شرکت کی تھی ۔ انہوں نے کہا کہ مودی حکومت کو گذشتہ 70سال سے جن مسلمانوں کے دلوں اور دماغوں میں زہر بھر دیا گیا ہے ان کے دل جیتنے کیلئے کئی اقدامات کرنے ہوں گے ۔ انہوں نے کہا کہ اچھی بات یہ ہے کہ نئی نسل ان زہریلے خیالات سے محفوظ ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ خواتین بی جے پی کی اس کے اچھے اور برے کاموں کی بنیاد پر جانچ کررہی ہے اور یہ ایک مثبت تبدیلی ہے ۔ نقوی نے کہا کہ حالیہ کیرانا ضمنی انتخابات میں بی جے پی کو اس لئے ناکامی ہوئی کہ بی جے پی کو اپنی کامیابیوں کا غرور آگیا تھا اور اسے یقین تھا کہ وہ ضمنی انتخابات میں بھی کامیابی حاصل کرے گی ‘ اس لئے اس نے اپنا محاسبہ نہیں کیا ۔ انہوں نے مشورہ دیا کہ بی جے پی کو لوک سبھا انتخابات کیلئے اپنی حکمت عملی کا جائزہ لینا ہوگا ۔ انہوں نے کہا کہ اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ ہم تمام انتخابات میں ناکام رہیں گے لیکن اب جب کہ ہم جان چکے ہیں کہ اپوزیشن پارٹیاں لوک سبھا انتخابات میں حصہ لینے کیلئے ایک اتحاد تیار کررہی ہیں ہمیں بھی ان کا مقابلہ کرنے کیلئے اپنی حکمت عملی کا جائزہ لینا ہوگا ۔
انہوں نے علاقائی تجربہ کار سیاست دانوں کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایک متحدہ محاذ تیار کرنے کی کوشش میں ہے تاکہ بی جے پی کی پیشرفت کو روک سکیں ۔ انہوں نے کہا کہ مسلمان ہمیشہ سے ووٹ بینک سیاست پر عمل کرتے رہے ہیں لیکن کامیاب رہنے والی سیاسی پارٹیوں نے ان کی ترقی کیلئے کچھ نہیں کیا ۔ کانگریس اور دیگر سیاسی پارٹیاں یہی سمجھتی رہی ہیں کہ مسلمان اُن کو ہی ووٹ دیں گے۔