مسلمانوں کی ناراضگی سے کے سی آر الجھن میں

اقلیتی اسکیمات پرعمل آوری پر رپورٹ کی طلبی، چیف منسٹر کا دفتر سرگرم، کمزور طبقات پر توجہ
حیدرآباد ۔ 8 ۔ نومبر (سیاست نیوز) اسمبلی انتخابات میں مسلم اقلیت کے ووٹ سے محرومی کے خوف میں ٹی آر ایس سربراہ کے چندر شیکھر راؤ کو الجھن میں مبتلا کردیا ہے۔ وہ مسلمانوں کی تائید حاصل کرنے کیلئے انتخابی منشور میں نئی اسکیمات اور وعدوں کی شمولیت کے خواہاں ہیں، اس کے علاوہ جاریہ اسکیمات اور بجٹ کے خرچ کے بارے میں اقلیتی اداروں سے تفصیلات طلب کی جارہی ہے ۔ بتایا جاتا ہے کہ چیف منسٹر کے دفتر کی جانب سے اقلیتی اداروں کو ہدایت دی گئی کہ وہ جاریہ اسکیمات پر عمل آوری اور بجٹ خرچ کے نتائج پر مشتمل رپورٹ فوری روانہ کریں۔ غریبوں کیلئے شروع کی گئی شادی مبارک اسکیم کے علاوہ اوورسیز اسکالرشپ اور فینانس کارپوریشن سے سبسیڈی کی اجرائی اور گاڑیوں کی فراہمی سے متعلق تفصیلات کو انتخابی مہم کے دوران اقلیتوں کو خوش کرنے کیلئے استعمال کیا جاسکتا ہے۔ ڈائرکٹوریٹ اقلیتی بہبود اور دیگر اداروں کے تحت چلنے والی مختلف اسکیمات کے گزشتہ چار برسوں کے نتائج پر مشتمل رپورٹ جنگی خطوط پر تیار کرتے ہوئے چیف منسٹر کے دفتر کو روانہ کردی گئی۔ بتایا جاتا ہے کہ اقلیتی آبادی والے علاقوں میں حکومت کے کارناموں پر مشتمل پمفلٹ تقسیم کئے جائیں گے جو اردو اور تلگو زبان میں ہوں گے ۔ حکومت کی دیگر اسکیمات جیسے پنشن اور کسانوں کو فصلوں پر امداد کی فراہمی اسکیم میں اقلیتوں کی حصہ داری اور استفادہ کنندگان کی تفصیلات حاصل کرتے ہوئے انہیں عوام کے درمیان پیش کیا جائے گا ۔ ذرائع نے بتایا کہ چیف منسٹر کی انتخابی مہم کے سلسلہ میں تقاریر کے جو نکات تیار کئے جارہے ہیں، ان میں اقلیتوں کیلئے حکومت کے اقدامات کو علحدہ طور پر رکھا جائے گا ۔ اسمبلی انتخابات میں کے سی آر مسلمانوں کی تائید حاصل کرنے کی ہر ممکن کوشش کرسکتے ہیں۔ 12 فیصد تحفظات کی فراہمی میں ناکامی کے سبب مسلمانوں کی ناراضگی کو دیکھتے ہوئے کے سی آر نے مسلم رائے دہندوں پر خصوصی توجہ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ انتخابی مہم میں چیف منسٹر تحفظات کی فراہمی میں بی جے پی کی مرکزی حکومت کی جانب سے پیدا کی گئی رکاوٹ کا تذکرہ کرتے ہوئے بی جے پی سے امکانی مفاہمت کے امکانات کی نفی کریں گے ۔ پارٹی کے ایک سینئر قائد نے بتایا کہ حکومت کی مختلف اسکیمات کے استفادہ کنندگان سے قائدین اور امیدوار شخصی طور پر ربط قائم کر رہے ہیں تاکہ ان کی تائید حاصل کی جاسکے۔ چیف منسٹر کی انتخابی مہم میں ایس سی ، ایس ٹی ، بی سی اور اقلیتی طبقات پر بطور خاص توجہ دی جائے گی ۔ ان تمام محکمہ جات سے فلاحی اسکیمات کی تفصیلات سے متعلق رپورٹ حاصل کی گئی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ چیف منسٹر مہا کوٹمی کے امیدواروں کے اعلان کے بعد اپنی طوفانی انتخابی مہم کا آغاز کریں گے۔ انتخابی مہم کا شیڈول تیار کرلیا گیا ہے ، تاہم اس کا انکشاف بعد میں کیا جائے گا ۔