ڈپٹی چیف منسٹر تلنگانہ کو مجاہد تلنگانہ و فخر تلنگانہ کا ایوارڈ، عوام کے ساتھ انصاف کرنے کا عزم
حیدرآباد۔21فبروری(سیاست نیوز) ڈپٹی چیف منسٹر تلنگانہ ریاست الحاج محمدمحمود علی نے چارسو سالوں تک اس ملک پر حکمرانی کرنے والے مسلمانو ںکے موجودہ حالات بیان کرتے ہوئے روپڑے اور ان کے آنکھوں سے آنسو رواں ہوگئے۔ آج یہاں سالار جنگ میوزیم میں تنظیم تحفظ اُردو اور پروانہ دکن کے زیر اہتمام منعقدہ جلسہ اعتراف خدمات برائے ’’مجاہد تلنگانہ وفخر تلنگانہ الحاج محمد محمود علی‘‘ نے صدارتی خطاب کے دوران کہاکہ اگر وہ ریاست تلنگانہ کے مسلمانوں کودرپیش مسائل میںکسی بھی قسم کی کوتاہی سے کام لیتے ہیں تو وہ اس عہدے نائب وزیراعلی کے حقدار نہیں ہیں۔انہوں نے ڈپٹی چیف منسٹر کا عہدہ سنبھالنے کے بعد انہیں مسلمانوں کے حقیقی مسائل سے واقفیت حاصل ہوئی ہے۔ انہوں نے اپنی گلوگیر آواز میں کہا کہ 400سالوں تک اس ملک پر حکمرانی کرنے والی قوم کی اکثریت دووقت کے کھانے کی محتاج کردی گئی۔جناب محمد محمود علی نے کہاکہ 1956 میں متحدہ ریاست آندھرا پردیش کا قیام نہ صرف اُردو زبان کی تباہی کا سبب بنا بلکہ ریاست کے مسلمان طبقے کو بھی منظم سازش کے تحت پسماندگی کاشکار بنادیا گیا۔ انہو ںنے مزید کہا کہ قوم وملت کی خدمت میںکسی بھی قسم کی کوتاہی پر وہ ڈپٹی چیف منسٹر کے عہدے کے قابل ہرگز نہیں رہیں گے۔ انہو ں نے کہاکہ یقینا تلنگانہ حکومت عوامی حکومت ہے اور چیف منسٹر تلنگانہ ریاست مسٹر کے چندرشیکھر رائو ایک عوامی قائد ہیںاس کے علاوہ وہ مسلمانو ںکے مسائل سے بھی اچھی طرح واقف ہیں۔ تلنگانہ ریاست کی تشکیل کے بعد جو توقعات ریاست کے اقلیتی طبقات بالخصوص مسلمانوں کے اندر پیدا ہوئے ہیں ان کو پورا کرنا تلنگانہ حکومت کی اولین ذمہ داری ہے اور مسلم اقلیتی طبقے سے تعلق رکھنے کی وجہہ سے ہر محاذ پر میں تلنگانہ کے اقلیتی طبقات کی نمائندگی کو اپنا اولین فریضہ سمجھتا ہوں۔ انہوں نے وزارت کیلئے مرکز کی بی جے پی حکومت سے مفاہمت کی تمام چہ میگوئیوں کو مسترد کرتے ہوئے کہاکہ مرکز کی بی جے پی حکومت کو کسی سے تعاون یا مفاہمت کی ضرورت نہیںہے اور نہ ہی تلنگانہ حکومت کو کسی سے مفاہمت درکار ہے۔ انہوں نے کہاکہ مرکز ی حکومت ریاستی انتظامیہ کی کارکردگی سے بہت متاثر ہے اور حکومت راجستھان نے تو تلنگانہ کے ریاستی انتظامیہ کی اسکیمات سے متاثر ہوکر ہماری فلاحی اسکیمات کی تفصیلات طلب کی ہیں تاکہ وہ تلنگانہ کے فلاحی اسکیما ت کو راجستھان کی عوام کے لئے بھی لاگو کرسکیں۔جناب محمد محمو دعلی نے تمام شعبہ حیات میںمسلمانو ںکو بارہ فیصد تحفظات کی فراہمی کو یقینی بنانے کے متعلق حکومت تلنگانہ کی جانب سے کئے جارہے اقدامات کی تفصیلات بھی پیش کیں۔ انہوں نے کہاکہ ٹاملناڈو میں معاشی پسماندہ طبقات کی آباد ی کا تناسب زیادہ ہونے کے سبب وہاں پر تحفظات کا تناسب69فیصد ہے اور ایسی ہی صورتحال تلنگانہ کی بھی ہے لہذا ریاست میں تحفظات کے تناسب کو69فیصد کرنے کے لئے اسمبلی میںایک آرڈر منظور کروانا پڑیگا اور وزیراعلی تلنگانہ ریاست مسٹر کے چندرشیکھر رائو اس عمل کو پورا کریںگے۔ انہوں نے کہا میٹروریل پراجکٹ کے تحت ہونے والے تقررات میں 90 فیصد علاقائی افراد کو موقع فراہم کرنے کا ایچ ایم آر انتظامیہ نے اعلان کیا ہے ۔ ایسے میں شہر حیدرآباد میںمسلمانوں کی آبادی کاتناسب 30 فیصد ہے لہٰذا بحیثیت ڈپٹی چیف منسٹر تلنگانہ ریاست میںنے ایچ ایم آر انتظامیہ کے تقررات میںحیدرآباد کے مسلمانوں کو تقررات میں 30 فیصد کے مواقع فراہم کرنے کی سفارش کی ہے۔جناب محمد محمود علی نے کہاکہ ریاست میں 77ہزار ایکڑ وقف اراضیات موجود ہیں باوجوداسکے ریاست کے مسلمانو ںکی اکثریت معاشی طور پر کمزور ہے۔ انہوں نے وقف اراضیات کی صیانت کے لئے تلنگانہ کے محکمہ اوقاف بورڈ کو فعال ادارہ بنانے کاعزم ظاہر کیا۔ انہوں نے کہاکہ دیانتدار عہدیداروں کا تقررعمل میںلاتے ہوئے محکمہ وقف بورڈ کو ماہانہ پانچ کروڑ تک کی آمدنی والاادارہ بنایا جائے گا۔انہوں نے کہا تلنگانہ کے تمام اضلاع میںوقف بورڈ کے ضلعی دفاتر قائم کئے جائیں گے اور عملے میںڈی سی پی رینک کے پولیس عہدیدار کا بھی تقررعمل میںلایاجائے گا تاکہ وقف جائیدادوں کی صیانت اور بازیابی کے عمل میںتیزی او رشفافیت پیدا کی جاسکے۔ انہوں نے شہر حیدرآباد کے چار حصوں میںقبرستان کے لئے معقول جگہ فراہم کرنے کا بھی اس موقع پر اعلان کیا جہاں پرتدفین کے لئے کسی بھی قسم کا معاوضہ اداکرنے کی ضرورت نہیںہوگی۔ انہو ں نے بیجا رقم کی ادائی کے بعد تدفین کے لئے جگہ فراہم کرنے والے متولیان کو تبدیل کردینے کے متعلق جاری غوروخوض کا بھی اس موقع پرذکر کیا۔جناب محمد محمودعلی نے فلک نما اور چنچلگوڑہ جونیرکالج میں ڈگری کالج کے قیام کے متعلق وزیرتعلیم کو مکتوبات روانہ کرنے کا بھی اعلان کیا۔صدر تنظیم تحفظ اُردو جناب عارف الدین نے اپنے خیرمقدمی خطاب میںاُردو کے تحفظ پر چلائی جانے والی تحریکات کے متعلق تفصیلات پیش کیں۔ اس موقع پر منعقدہ مشاعرہ میں جناب صوفی سلطان قادری‘ شکیل حیدر ‘اسدلرحمن ظفر‘ شفیع اقبال‘ قابل حیدرآبادی‘ محترمہ اسریٰ منظور نے اس موقع پر تہنیتی قطعات اور اپنا کلام بھی پیش کیا۔